News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

گلوان وادی:ڈیڑھ کلومیٹر پیچھے ہٹی چینی فوج: دعویٰ

مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں گزشتہ دنوں ہوئے پرتشدد جھڑپ کے بعد بالآخر ہندستان اور چین کے فوجی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ذرائع نے یہ جانکاری دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، دونوں ملکوں کی فوج پرتشدد جھڑپ والی جگہ سے 1.5کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ یہ ممکنہ طور پر گلوان وادی تک محدود ہے۔ اب اسے بفر زون بنا دیا گیا ہے تاکہ آگے کوئی پرتشدد واقعہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ دو اور جگہوں سے بھی چینی فوج پیچھے ہٹی ہے۔ دونوں فریق عارضی ڈھانچے کو بھی ہٹا رہے ہیں۔ ہندستان نے چینی فوجیوں کے ہٹنے کا فزیکل ویریفکیشن بھی کر لیا ہے۔
پرتشدد جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کی فوجیوں کے درمیان مسلسل بات چیت چل رہی تھی۔ ذرائع کی مانیں تو ہندستان اور چین کی افواج نے ری لوکیشن پر اتفاق رائے ظاہر کیا ہے جس کے بعد وہ موجودہ جگہ سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، 6 جون کو کور کمانڈر کی میٹنگ میں اس پر رضامندی بنی تھی۔ اس کے بعد 30 جون کو کور کمانڈر سطح کی تیسری میٹنگ میں ڈس انگیجمنٹ کی تصدیق کے لئے 72 گھنٹے کا واچ پیریڈ بھی طئے کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اب دونوں طرف سے افواج کے پیچھے ہٹنے کی خبر آ رہی ہے۔ حالانکہ، ابھی تک ہندستانی فوج کی طرف سے اس کی رسمی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

بتا دیں کہ گلوان وادی میں ایل اے سی پر 15 جون کو چینی فوجیوں نے ہندستانی جوانوں پر حملہ کر دیا تھا۔ اس میں ہندستان کے 20 جوان شہید ہو گئے تھے۔ چین کی طرف سے بھی 37 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے تھے، لیکن چینی نے رسمی طور پر اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بتائی ہے

1,246 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.