News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

مرحوم صدر جمہوریہ ذاکر حسین نے کبھی کئے تھے جوتے پالش

نئی دہلی۔ جب ڈاکٹر ذاکر حسین وائس چانسلر تھے تو ایک دن وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دروازے پر برش اور بوٹ پالش لے کر بیٹھ گئے۔ وہ آنے جانے والے طلباء کے جوتے پالش کرنے لگے۔ کچھ دیر تک انہوں نے ایسا کیا، پھر طلبہ شرمندہ ہوگئے اور ان لوگوں نے ان سے معذرت کی۔
اس واقعہ سے قبل ماہر تعلیم ڈاکٹر ذاکر حسین نے کئی بار اپنے طالب علموں سے کہا تھا کہ وہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر پڑھنے آئیں۔ جوتے بھی مناسب طریقے سے پالش کئے ہونے چاہئیں۔ لیکن جب طلبہ نے اس پر توجہ نہیں دی تو انہوں نے گاندھیائی طریقہ اپنایا اور اس کا زبردست اثر پڑا۔
اس واقعہ سے قبل ماہر تعلیم ڈاکٹر ذاکر حسین نے کئی بار اپنے طالب علموں سے کہا تھا کہ وہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر پڑھنے آئیں۔
ایک بار جامعہ ملیہ کے اجلاس میں معاشیات میں پی ایچ ڈی ذاکر حسین نے کہا تھا، ‘میں چاہتا ہوں کہ جو لڑکے اور لڑکیاں یہاں سے تعلیم حاصل کر کے نکلیں، وہ اساتذہ بنیں۔ سب سے پہلے اسی کی کوشش کی جانی چاہئے۔ آپ ایک کامیاب استاد بن کر ملک کی خدمت کریں۔ ‘
تعلیم سے گہرے لگاؤ ​​رکھنے والے ذاکر صاحب کو گاندھی جی نے 1937 میں تعلیم کے قومی کمیشن کا صدر بنایا تھا۔ اس کا قیام گاندھی وادی کورس بنانے کے لئے ہوا تھا۔ بنیادی کالجوں کی بنیاد ڈالنی تھی۔
ڈاکٹر ذاکر حسین اس ملک کے تیسرے صدر تھے۔ وہ بھارت رتن سے بھی سرفراز کئے گئے لیکن ان کا صرف یہی ایک تعارف نہیں ہے۔ ذاکر صاحب 23 سال کی عمر میں ہی جامعہ ملیہ کی تاسیسی ٹیم کے رکن بن گئے۔ 1969 میں ان کی موت کے بعد انہیں اسی کیمپس میں دفن کیا گیا جہاں وہ 1926 سے 1948 تک وائس چانسلر تھے۔
ذاکر صاحب 8 فروری 1897 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حیدرآباد میں وکالت کرتے تھے۔ ساتھ ہی قانون کے میگزین آئینہ دکن کی ایڈیٹنگ بھی کرتے تھے۔ ” ان کے باپ دادا افغانستان کے بہادر فوجی تھے۔ لیکن ذاکر صاحب کے والد فدا حسین خان نے روایت کو توڑ کر وکالت شروع کی۔ ذاکر حسین 9 سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔
ان کا خاندان 1907 میں اٹاوہ پہنچ گیا۔ ذاکر صاحب نے اپنے تین بھائیوں کے ساتھ اسلامیہ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے معیشت میں ایم اے کرنے کے بعد 1923 میں ذاکر صاحب جرمنی چلے گئے۔ برلن یونیورسٹی سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی۔ بعد میں ذاکر صاحب 1948 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بھی وی سی بنائے گئے۔ وہ 1956 تک اس عہدہ پر رہے۔
علی گڑھ یونیورسٹی پہلے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کہا جاتا تھا جب ذاکر صاحب وہاں طالب علم تھے۔ تبھی ایک بار گاندھی جی نے وہاں طالب علموں اور اساتذہ کو خطاب کیا تھا۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ ہندوستانیوں کو اس طرح کے تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو برطانوی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ اس کا اثر ذاکر حسین پر بھی پڑا۔
گاندھی جی نے کہا تھا کہ ہندوستانیوں کو اس طرح کے تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو برطانوی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ اس کا اثر ذاکر حسین پر بھی پڑا۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ ہندوستانیوں کو اس طرح کے تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو برطانوی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ اس کا اثر ذاکر حسین پر بھی پڑا۔
بنیادی تعلیم کا جو تصور گاندھی کا تھا اسے ذاکر حسین نے فروغ دیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو انہوں نے اس کا ایک نمونہ بنایا تھا۔ 1967 میں صدر بننے کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ ملک کے لوگوں نے اتنا بڑا اعزاز اس شخص کو دیا ہے جس کا قومی تعلیم سے 47 سال تک تعلق رہا ہے۔ گاندھی جی میرے گرو تھے۔
ذاکر حسین اپنے داماد کو ہر عید پر عیدی کی شکل میں ایک چھوٹی رقم دیتے تھے۔ ایک بار جب انہیں بتایا گیا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، عیدی بڑھا دیجئے۔ اس پر ذاکر صاحب نے کہا کہ میں تو اتنا ہی دونگا

2,530 total views, 0 views today

One Reply to “مرحوم صدر جمہوریہ ذاکر حسین نے کبھی کئے تھے جوتے پالش

  1. I’m not that much of a internet reader to be honest but your blogs
    really nice, keep it up! I’ll go ahead and bookmark your website
    to come back later. All the best

Leave a Reply

Your email address will not be published.