News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

رام مادھو کا 4 نکاتی فارمولہ کیا ہے؟

مصنف – پی جی رسول

بی جے پی کے جنرل سیکریٹری شری رام مادھو نے مبینہ علیحدگی پسندی کو بیج بُن سے اکھاڑنے کا چار نکاتی فارمولہ پیش کردیا ہے۔اس خبر کو اخبارات نے ضرور سرخیوں کے ساتھ شائع کیا لیکن مزاحمتی قیادت کی جانب سے کوئی خاس ردعمل دکھائی نہیں دیا۔
شری مادھو کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ یہ پارٹی کا موقف ہے جو پارٹی ایک بہت بڑی ریاست کے اقتدار پر قابض ہے ۔پھر اس بیان کی غیر معمولی اہمیت ا سلئے بھی ہے کہ رام مادھو آر ایس ایس کے دانشور اور پالیسی سازوں میں شامل ہیں۔ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ بیان پارٹی ایگزیکٹیو اجلاس میں دیاگیاجو سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہوا تھا۔بی جے پی کے ریاستی سطح کا اس طرح کا اجلاس سرینگر میں منعقد ہونا از خود ایک بڑا پیغام ہے ۔ایک اور خاص بات یہ بھی رہی کہ اجلاس میں پی ڈی پی کے وزیر نعیم اختر اور ریاستی وزیر سجاد غنی لون بھی شریک رہے۔
آر ایس ایس لیڈروںکو یہ ’’کریڈٹ‘‘دیا جانا چاہئے کہ وہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کیونکہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں کیونکہ ملک اور اقتدار سب اُن کا ہے ۔اس لئے وہ اپنے مبینہ ہدف یا ’’دشمن ‘‘کو للکار کر کہتے ہیں کہ ہم تمہیں ختم کردینگے ۔گوکہ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں پاکستان جیسی طاقتور ریاست کے خلاف درست ثابت تو نہ ہوسکیں البتہ مظلوم اور مقہور کشمیر کے عوام اس پنجۂ استبداد سے ہر گز محفوظ نہیں ہیں۔مادھو نے علیحدگی پسندی ،مطلب یہاں کی تحریک کو ’’علیحدگی پسندی کا کینسر‘‘قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یہ ’’پرابلم‘‘ختم کرکے ہی دم لیں گے ۔ اس موقعہ پر وزیراعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علیحدگی پسندی نہرو کی غلطیوں کا ثمر ہے اور وہ یہ ساٹھ سالہ غبار ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔اس موقعہ پر بی جے پی کے ریاستی صدر ست شرما نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ2022تک حریت کا مکمل صفایا کریں گے۔مطلب یہ کہ 2022کے بعد کشمیر میں حریت کی مزاحمتی سیاست و قیادت کا دو ریکسر ختم ہوجائیگا۔

اب آیئے ذرا ہم رام مادھو کے چار نکاتی فارمولہ کی طرف دھیان دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ بہت دنوں سے پارٹی (مطلب آر ایس ایس ۔بی جے پی)کے لیڈروں نے علیحدگی پسندی کے سرطان کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔یعنی یہ اب مستقبل کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ منصوبہ ترتیب دیا جاچکا ہے جس پر عمل جاری ہے، جس سے 2022تک حریت و مزاحمتی تحریک کا خاتمہ ہوگا۔اس چار نکاتی منصوبہ کوبقول مادھو یوںبنایا گیا ہے:
1 تمام عسکریت پسندوں کو اندرونی (کشمیری )اور بیرونی (غیر ملکی)کی فرق کے بغیر ختم کیاجائیگا۔عسکریت پسند جوانوں کیلئے کوئی رعایت نہیں ہوگی ۔ہتھیار بند یکساں طور پر ختم کئے جارہے ہیں اور ختم کئے جائیںگے۔

2 سوشل میڈیا کا ’’غلط ‘‘استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی اگر چہ انہیں مارنا ضروری نہیںہے ۔انہیں مارنے کی بجائے قانونی شکنجے میں کسا جائے گا۔

3 عیاشی کی زندگی گزار نے والے علیحدگی پسندوں کے خلاف زبردست انسدادی کارروائی جاری رہے گی تاکہ وہ جن رقوم پر اپنی عیاشانہ زندگی گزارتے ہیںاور ان کے ایک حصہ کو’’علیحدگی پسندی ‘‘کے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ،اس سب کا سدباب ہوسکے ۔یعنی رقوم کی حصولی اب ممکن نہیں رہے گی۔

4 پارٹی کے بنیادی اصولوں یعنی اچھی حکومت اور ترقی کو فروغ دیاجائے گاتاکہ لوگ ان کے فوائد سے فیض یاب ہوسکیں۔
اس چار نکاتی فارمولہ پر عمل آوری کے بعد کشمیر پرمذاکرات کا آغاز ہوگا۔نوٹ کرنے کے لائق یہ بات ہے کہ بی جے پی کے جنرل سیکریٹری نے ریاستی ایگزیکٹیو کے اس اہم اجلاس میں بتایا کہ چار نکاتی فارمولہ پر عمل کرنے کے بعد ہی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔یعنی مذاکرات مستقبل میں بہت بعد کی بات ہے اور اگر ست شرما کے2022کو دیکھیں تو کہاجاسکتا ہے کہ بی جے پی کیلئے2022تک یعنی چار نکاتی فارمولہ پر عمل کرنے کے بعد ،حریت کے سیاسی منظر کے خاتمہ کے بعد مذاکرات کا ایک خواب و خیال ہے۔اگر یہ سب کچھ سچ ہے اور یقینایہ سچ ہی ہے تو پھر موجودہ نام کے مذاکرات کار دنیشور شرما کو کون سا کام دیاگیا ہے ؟۔وہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں ،کیا وہ وہی خفیہ کام اب سوٹ پہن کرکریں گے کیونکہ آ ر ایس ایس بی جے پی کیلئے 2022تک مذاکرات کے آغاز تک کاسوچا نہیں جاسکتا ہے۔
آر ایس ایس کی اس سوچ سے کئی باتوں کاصاف پتہ چلتا ہے ۔ایک تو یہ کہ موجودہ مذاکرات یا تو محض وقت گزاری کیلئے ہیں یا پھر اس آڑ میں کسی دوسرے ایجنڈا پر کام ہورہا ہے۔اگر چہ یہ بات درست مانی جاسکتی ہے کہ ایک قومی جماعت کی حیثیت سے کئی چیزیں ان کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیںجن میں مبینہ علیحدگی پسند تحریک سرفہرست ہے لیکن ایک پوری قوم کے تئیں سنگین دشمنانہ رویہ اپنا نا ایک نسل پرست رویہ ہے ۔
ملی ٹینسی کے خاتمہ کے نام پربالخصوص جنوبی کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اور کیاجارہا ہے ،وہ ایک جمہوری ملک اور ریاست کیلئے نہایت ہی شرم ناک ہے۔چند دنوں یا ہفتوں تک بندوق تھامنے والے لڑکوں کو ملی ٹنٹ ہونے کے نام پرگھیر کرکے انہیں شدید بم بار ی کرکے جلایا جاتا ہے ۔مکانوں کو ہیلی کاپٹروں اور مارٹر بموں سے تباہ کیاجارہا ہے ۔لوگوں کی املاک خاکستر کی جارہی ہیں۔اگر کسی صورتحال میں ایک مسلح جوان لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،اُسے گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے ۔ایسا کرنا مسلمہ جنگی اصولوںکے مطابق ہے لیکن اس کے برعکس ایسے نو آموز لڑکوں کو اُن گھروں سمیت اڑادیا جارہا ہے اور عوامی املاک بڑے پیمانے پر تباہ کی جارہی ہیں۔لوگوں کے گھروں پر حملے کئے جاتے ہیں۔یہ ایک دفعہ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اب قاعدہ ہی بنایا گیا ہے اور یہ سب کچھ رام مادھو کے چار نکاتی فارمولہ کا گویا عنوان ہے۔
رام مادھو نے ایک اور خاص بات یہ بھی کہی کہ کشمیر کے لوگوں کو جموں کے لوگوںکی طرح ہندوستانی سوچ پید اکرنے کی ضرورت ہے یعنی کشمیر یوں کو ہندوستانی بنانے کیلئے جموں ایک ماڈل ہے۔اسے حُسنِ اتفا ق ہی کہیں کہ یہ فارمولہ اکتوبر میں سامنے لایا گیا اور یہ وہی مہینہ ہے جب1947میں جموں والوںنے ہندوستانی بننے اوربنانے کیلئے مسلمانوںکی نسلی صفائی میں 2لاکھ سے زائد مسلمان ختم کر ڈالے ۔پھر جموں والوں کو ہندوستانی ہونے کے عوض جتنے اداروں،اورقوم اور ترقی سے نوازا جاتا رہا ہے ،کشمیر تو ا سکے مقابلے میںکچھ بھی نہیں ہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کیلئے کشمیر کی ساری تحریک ایک سرطان ہے اور نہرو کی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔اگر اس تحریک کے بعض مظاہر اس کیلئے ناقابل قبول ہوتے تو وہ بات قابل فہم ہوتی لیکن ساری تاریخ اور تحریک کو سرطان اور سیاسی غلطی کے کھاتے میں ڈال کر دراصل یہ جماعت عوام کی تاریخ اور تحریک کی کلی نفی کرتی ہے۔ممکن ہے کہ کوئی کہے یہ تو معلوم ہی ہے کہ آر ایس ایس اس طرح کی سوچ رکھتی ہے جس کو وہ مختلف مواقع اورصورتوں میں اظہار پر لاتے ہیں لیکن مشکل دو اعتبار سے ہے۔ایک یہ کہ آر ایس ایس اب مرکزی اور ریاستی سطح پر اقتدار میں ہے ۔اس لئے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک بے پناہ ریاست کے وسائل بھی دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پرایک مخلوط اکائی کی بعض معاملات میں اعلانیہ اور بعض میں خاموش تائید وحمایت حاصل ہے۔
رام مادھو کا چار نکاتی فارمولہ عوام کی تحریک کی کلی نفی پر مشتمل ایک اعلان ہے۔اچھی سرکار اور ترقی کی آڑ میں ایک عوامی تحریک کے جذبات،احساسات کا انکار کوئی صحت مند بات نہیں ہے ۔ہمارے لئے جو کچھ کرتا ہے ،وہ ’’شیر‘‘کرتا ہے اور ہماری تحریک کے قائدین یا ادارے مناسب دفاع اور ردعمل سے قاصر نظر آتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا کہ اگر آپ جنگل سے گزر رہے ہوں اور سامنے شیر آجائے تو آپ کیا کرینگے؟۔تو حاضر جواب دوسرے شخص نے بولا کہ میں کیا کروں گا ،جو کچھ کرنا ہے ،شیر کو کرنا ہے ۔اسی طرح کشمیر کی مثال بن چکی ہے ۔سب کچھ یکطرفہ طور ہورہا ہے ۔عوامی تحریک کی جڑیں اور احساسات بحر الکاہل سے بھی گہرے ضرور ہیں لیکن اس تحریک کی سیاسی حیثیت بالکل پتلی ہے ۔اسی لئے لوگ ہر سطح پر فوجی ،سیاسی ،اقتصادی سطح پر ’’شیر‘‘کے حملوں کا شکار ہیں۔چار نکاتی فارمولہ یہی بات ثابت کرتا ہے کہ یہ تحریک ایک جانب اپنی سیاسی حیثیت منوانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے تو دوسری طرف نئی دلّی کا رویہ خالص ہندو جارحانہ نسل پرستی کا عکاس ہے۔

2,592 total views, 0 views today

One Reply to “رام مادھو کا 4 نکاتی فارمولہ کیا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.