News برصغیر تازہ ترین

تہاڑ جیل: قیدیوں پرجسمانی تشدد، لواحقین بر سرِاحتجاج

سرینگر : تہاڑ جیل میں 18کشمیری قیدیوں کیخلاف پولیس کشی زخمی اسیران کے والدین اور اہل خانہ نے اتوار کو سرینگر میں احتجاج کرکے انسانی حقوق اداروں کی توجہ مبذول کراکے کشمیری قیدیوں کو وادی منتقل کرانے کیلئے عالمی برادری پر زور دیا ۔اتوار کی صبح وادی کے اطراف واکناف سے آئے’ والدین اسیران تہاڑ جیل ‘نے پریس کالونی میں دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ سراپا احتجاج بنے والدین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر تہاڑ جیل کے قیدیوں کو سرینگر منتقل کرو،قیدیوں پر ظلم بند کرو ،ہمیں انصاف دو ،کے نعرے درج تھے ۔ احتجاجی والدین نے کہا کہ تہاڑ جیل میں مقیم کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور وہاں اُن کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے ۔متاثرہ والدین کافی دیر تک احتجاج کرتے رہے اور بعد میں پر امن طور پر منتشر ہوئے۔واضح رہے کہ 21نومبر کو تہاڑ جیل میں 18کشمیری قیدیوں کو تامل ناڈو پولیس نے بلا وجہ لہو لہان کردیا جس کے بعد یہ معاملہ دلی ہائی کورٹ میں زیر بحث آیا اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد عدالت عالیہ نے اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اؤکرنے کے احکامات صادر کئے۔ادھراحتجاج میں شامل محمد فاروق ملک ساکن سوپور نامی ایک انجینئر نے کہا کہ اُس کا بیٹا احتشام فاروق جرم بے گنائی کی پاداش میں پچھلے 6برسوں سے تہاڑ جیل میں مقید ہے، جہاں اُس پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 2012میں دلی پولیس نے اُس کو دلی سے گرفتار کر کے تہاڑ جیل پہنچایا ،جب وہ اپنے گھر سوپور آرہا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا انجینئرنک کالج رانچی میں زیر تعلیم تھا اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد گھر آرہا تھا ۔ محمد فاروق نے مزید کہا کہ سوپور میں اُس کے خلاف ایک پرانا کیس تھا، جس کے سلسلے میں پچھلے دنوں اُسے تہاڑ جیل سے سوپور لایا گیا ،جہاں اُس سے میری ملاقات ہوئی اُس کی حالت دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا کیونکہ اُس کے سر اور دائیں بازوں پر گہری چوٹیں تھیں اور اُس کی حالت دیکھ کر میں نے ایک درخواست سیشن جج سوپور کو پیش کی اور مطالبہ کیا کہ اُس کی حالت کو دیکھ کر اُس کا علاج ومعالجہ کرایا جائے ۔فاروق نے کہا کہ سوپور عدالت نے میری عرضی پر غور کرتے ہوئے احکامات صادر کئے اور میرے بیٹے کو پہلے سوپور اور پھر سکمز میں داخل کیا گیا لیکن 30نومر کو بغیر کسی علاج ومعالجہ کے دلی پولیس نے اُس کو زبردستی تہاڑ جیل پہنچایا ۔عبدالرشیدساکن بجبہاڑہ اننت ناگ نے بتایا کہ میرا بھتیجا مشتاق احمد لون بھی اس وقت تہاڑ جیل میں مقید ہے۔رشید نے کہا کہ جون 2014میں میرے بھتیجے کو این آئی اے نے ایس ایچ او بجبہاڑہ کے ذریعے تھانے بلایا اور وہاں سے این آئی اے والے اُسے اپنے ساتھ سرینگر لے گئے ۔سرینگر میں2 دن بند رکھنے کے بعداُس کو دوبارہ گھر لایا گیا جہاں گھر والوں سے اُس کے کپڑوں کی مانگ کی گئی اور کہا کہ یہ ہمارے ساتھ دلی جا رہا ہے اور کچھ روز بعد واپس بھیجا جائے گا ۔لیکن تب سے اب تک اُس کی رہائی نہیں ہو سکی ۔ رشید نے کہا کہ اُس کو کس جرم میں بند رکھا گیا ہے اس حوالے سے بھی گھر والوں کو کوئی علمیت نہیں ہے ۔

2,603 total views, 0 views today

One Reply to “تہاڑ جیل: قیدیوں پرجسمانی تشدد، لواحقین بر سرِاحتجاج

  1. Thanks for finally talking about >تہاڑ جیل: قیدیوں پرجسمانی تشدد،
    لواحقین بر سرِاحتجاج – انکشاف
    <Loved it!

Leave a Reply

Your email address will not be published.