News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

ترال میں ہلاکتوں کی وجہ سے عوام کا حال انتہائی بے حال

ترال : جنوبی قصبہ ترال میں جمعرات کی دوپہر اُس وقت قیامت بپا ہوئی جب وزیر تعمیرات نعیم اختر کے قافلے کو نشانہ بنانے کی غرض سے گرینیڈ سے حملہ کیا گیا۔حملے میں ایک خاتون اور ایک بزرگ شہری جاں بحق جبکہ30 افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس و سی آر پی ایف کے10 اہلکار، تین سالہ کمسن بچی اور ایک سپر انٹنڈنگ انجینئر آر اینڈ بی اور اسکا ڈرائیور بھی شامل ہیں ۔دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایک 65سالہ شہری اسلامک یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اے آر تراگ کے برادرہیں۔دھماکے کے بعد فورسز کی فائرنگ سے خوف و دہشت پھیل گئی اور پورے قصبے میںسناٹا چھا گیا۔دوپہر کے بعد مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
واقعہ کیسے ہوا؟
تعمیرات عامہ کے ریاستی وزیر نعیم اختر محکمہ کے سینئر انجینئروں اور اعلیٰ افسران کے ہمراہ قصبے کے دورے پر تھے ،جس کے پیش نظر قصبہ میں سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق جونہی وزیر موصوف کا درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ بس اسٹینڈ سے گزار تو چند ہی سیکنڈ کے بعد ٹھیک11بجکر45منٹ پرایک طاقتور دھماکہ ہوا۔حملہ آوروں نے قافلے کو نشانہ بنانے کی غرض سے ہتھ گولہ داغا جو سڑک پر گر کر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔اس موقعے پر مختلف مقامات پر تعینات فورسز اہلکاروں نے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔جس جگہ یہ گرینیڈ حملہ کیا گیا ،وہاں مسافروں اور راہگیروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود رہتی ہے ۔دھماکے اور گولیوں کی آواز سنتے ہی پورے قصبے میں اتھل پتھل مچ گئی ،راہگیراور چھاپڑی فروش محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے اور دکانداروں نے بھی راہ فرار اختیار کی جس کے نتیجے میں بازاروں میں آناً فاناً سناٹاچھا گیا۔ سڑکوں پر زخمیوں کے ڈھیر لگ گئے اوردرجنوں راہگیروں کو خون میں لت پت سڑک پر گرا ہوا پایا گیا جو مدد کیلئے پکار رہے تھے ۔ حملے کے فوراً بعد پولیس اور فورسز کی مزید کمک وہاں نمودار ہوئی جنہوں نے گرد و نواح کے علاقوں کو محاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر موصوف اور ان کے ہمراہ دیگر افسران کو بحفاظت پولیس اسٹیشن ترال منتقل کیا۔ گرینیڈ کے آہنی ریزوں کی زد میں آکر مجموعی طور34افراد زخمی ہو گئے جن میںکئی خواتین کے علاوہ پولیس کے3اور سی آر پی ایف کے7اہلکاربھی شامل ہیں ۔زخمیوں کو فوری طور پرسب ڈسٹرکٹ اسپتال ترال منتقل کیا گیاجہاں ڈاکٹروں نے ایک خاتون سمیت2شہریوں کو مردہ قرار دیا۔ ان کی شناخت پنکی کور دختر اچھپال سنگھ ساکن چتروگام ترال اور67سالہ غلام نبی تراگ ولد غلام احمد تراگ ساکن گلاب باغ ترال پائین کے بطور ہوئی۔معلوم ہوا ہے کہ پنکی کور اسلامک یونیورسٹی میں ایم بی اے کررہی تھیں۔غلام نبی تراگ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلامک یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسر عبدالرشید تراگ کے برادر ہیں۔بعد میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ محمد اقبال خان نامی ایک اور شہری زخمی چل بسا۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی اس قسم کی افواہ سنی لیکن سرکاری طور پر انہیں اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔
زخمی شہری
پولیس نے بتایا کہ 16عام شہریوں اور دو سی آر پی ایف اہلکاروں کو ابتدائی مرہم پٹی کے بعدسب ڈسٹرکٹ اسپتال ترال سے رخصت کیا گیا جبکہ دیگر 13زخمیوں کو علاج و معالجہ کیلئے صدر اسپتال اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کے نام غلام نبی نائیک ساکن ترال پائین، سجاد احمد زرگر ترال پائین، غلام محی الدین لون کھاسی پورہ، غلام حسن ڈار نمبلہ بل پانپور، مشتاق احمد شیخ ترال پائین، منظور احمد ریشی ترال پائین، جاوید احمد زرگر ترال پائین، ریاض احمد نائیک ترال پائین، ستنام کور گڈ پورہ، کرمجیت سنگھ چتروگام، شیرو سنگھ چتروگام، شاہد شبیرکھار پورہ شاہ آباد،سپر انٹنڈنگ انجینئر آر اینڈ بی شوکت احمد ، سی آر پی ایف کانسٹیبل بپن کمار، پولیس کے سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شبیر احمد، کانسٹیبل محمد عابد، ڈرائیور ریاض احمد شیخ ترال ، زیبہ بیگم ساکن ہندورہ ترال، غلام محمد میر ترال،تین سالہ بے بی دخترشبیر راتھرساکن لالگام ، اس کی ماں ڈیزی، غلام محی الدین ستاری بجبہاڑہ، ہلال احمد ترال، گلشنہ ترال، عبید حسن،عبدالستار بٹ برنہ تل، محمد امین کمار ترال اور عبدالغنی بوچھوترال کے بطور معلوم ہوئے ہیں۔
اس صورتحال کے بعد ترال قصبہ اور اسکے مضافات میں دوپہر کے بعد ہر طرح کی کاروباری سرگرمیاں مکمل طور معطل اور ٹریفک کی آواجاہی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔تاہم اسپتال میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی اور اس نے مظاہرے کئے تاہم یہ مظاہرے پر امن رہے۔جبکہ گرینیڈ کی جگہ پر بھی معمولی احتجاج ہوا۔لوگ الزام لگارہے تھے کہ جعو لوگ ہلاک ہوئے انہیں گولیاں لگیں ہیں جو فورسز نے جوابی کارروائی کے طور پر چلائیں۔
پولیس کے بیان کے مطابق ترال بس اسٹینڈکے نزدیک دہشت گردوں نے ایک ہتھ گولہ پھینکا جس کے نتیجے میں دوعام شہری جن کی شناخت پنکی کور دختر اشپال سنگھ ساکن چھتر اگام اورغلام نبی تراگ ولد غلام احمد ساکن ترال پائین کے طور ہوئی موقعہ پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ 30 افراد جن میں2 پولیس اہلکار 7,سی آر پی ایف جوان اور 21 عام شہری زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو علاج ومعالجہ کیلئے سب ڈسڑکٹ اسپتال ترال منتقل کیا جہاں سے 16عام شہریوں اور 2سی آر پی ایف جوانوں کو علاج ومعالجہ ،کے بعد ڈسچارج کئے گئے جبکہ باقی زخمیوں کو مذید علاج ومعالجہ کیلئے سرینگر منتقل کئے گئے ۔سوشل میڈیا پر پھیلی پیلٹ کا استعمال کی خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایس پی اونتی پورہ زاہد احمد کے مظابق کسی بھی پیلٹ کا استعمال نہیں کیا گیا تا ہم مذید حملے کو روکنے کیلئے ہوا میں چند رونڈ فائر کئے گئے ۔ دھماکے کے وقت فورسز نے کافی صبر تحمل کا مظہرہ کیا ۔
وزیر تعمیرات نعیم اختر ترال واقعہ پر رو پڑے۔گرینیڈ حملہ کے بعد پولیس سٹیشن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملہ آور ترال اور نہ کشمیر کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں ۔نعیم اختر نے زبردست جذباتی ہو کر اشک بار آنکھوں سے ترال واقعہ میں مرنے والے عام شہریوں کی ہلاکت کو انتہائی بد قسمتی قرار دیتے ہوئے مہلوک کے ورثان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا’’ ہم نے سوچا تھا کہ ترال کو آج تک نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ وادی میں نامساعد حالات کے دوران بھی ترال مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا‘‘۔انکا کہنا تھا کہ آج کل علاقے کی تعمیر ترقی کا جائزہ لینے کے لئے ہم پورے علاقے میں ہورہے کام کاج کا جائزہ لینے جارہے تھے جہاں ایک سو کروڑ کا کام بہتر انداز سے چل رہاہے جہاں سڑکیں بن رہی ہیںاور عام لوگ اپنی مشکلات لے کر میرے پاس آئے اور ہمارا قافلہ ترال بس اسٹینڈ سے آگے گزر گیا جس کے دوران اس پر حملہ کیا گیاہے۔انہوں نے کہا’’ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا‘‘۔انہوں نے زبردست جذباتی ہو کر کہا کہ آج یوم کر بلا تھا اور ان لوگوں نے ایک اور کربلا برپا کیا ہے ۔نعیم اختر نے کہا کہ یہ لوگ (حملہ آور)نہ ہی ترال اور نہ ہی کشمیر کے خیر خواں ہو سکتے ہیں اس مار دھاڑسے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔شہری ہلاکتوں کا دکھ مجھے زندہ رہنے تک دل میں رہے گا۔اگر چہ ہم انہیں واپس نہیں لاسکتے ہیں تاہم ان کے لواحقین کے امداد کے بارے میں وہ وزیر اعلیٰ سے بات کریں گے۔ بعد میںنعیم اختر طے شدہ دورے کو حملے کی وجہ سے موخر کر کے سخت سیکورٹی حصار میںواپس سرینگر روانہ کئے گئے ۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ترال میں کئے گئے وحشیانہ حملہ کی سخت مذمت کی ہے جس میں 3عام شہری جاںبحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں آر اینڈ بی محکمہ کے ایس ای اور ایگزیکٹو انجینئر شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ حملہ اُس وقت ہوا جب ایک ریاستی وزیر اس علاقہ میںترقیاتی ضروریات کا جائیزہ لینے گئے تھے جو دہائیوں تک نظر انداز ہوا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پچھلی تین دہائیوں سے ریاست کو تشدد کے ایک گھناؤنے جال نے گھیر رکھا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خون خرابے کو بند کیا جائے تا کہ لوگوں کو راحت کی سانس نصیب ہوسکے۔محبوبہ مفتی نے متاثرہ لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ترال علاقے میں چار معصوم اور بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف، چاہے کن ہاتھوں سے ہوا ہو اور درجنوں افراد کے شدید زخمی ہونے پر اپنے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے گنجان آبادی والے علاقوںمیںفواج اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر نئے کیمپ اور بنکر تعمیر کئے جانے سے عام لوگوں کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ مشترکہ قیادت نے ریاست کے عوام کو جنگ زدہ حالات میں سخت ترین مشکلات سے دوچار کئے جانے پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

3,849 total views, 0 views today

2 Replies to “ترال میں ہلاکتوں کی وجہ سے عوام کا حال انتہائی بے حال

  1. Hi, i believe that i noticed you visited my weblog thus i got here to return the favor?.I’m trying to to find things to enhance my web site!I assume its ok
    to make use of a few of your ideas!!

  2. Hello i am kavin, its my first occasion to commenting anywhere, when i read this post i thought i could also create comment due to this brilliant article.

Leave a Reply

Your email address will not be published.