News ٰآس پاسٰ برصغیر بین الاقومی تازہ ترین عالم اسلام

افغانستان: ضلعوں کےکنٹرول کی جنگ،فورسز کےمزید کمانڈوزمیدان میں

افغان حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں طالبان کے قبضے میں جانے والے تمام اضلاع کا کنٹرول واپس حاصل کیا جائے گا۔
افغانستان میں حکومت نے تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان سے شکست کھا کر ایک ہزار فوجی اہلکاروں کے پڑوسی ملک جانے کے بعد شورش زدہ اضلاع میں سینکڑوں مزید کمانڈوز بھیجے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متعدد اضلاع میں لڑائی ہو رہی ہے تاہم عسکریت پسندوں نے ملک کے شمالی علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران درجنوں اضلاع سرکاری افواج کے قبضے سے نکل گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی اور نیٹو افواج نے طالبان کے خلاف آپریشن کا کمانڈ سینٹر بگرام ایئر بیس خالی کر دیا تھا۔
کابل کے نزدیک اس ایئربیس سے 20 برس تک غیرملکی افواج طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہیں۔
یاد رہے کہ گیارہ ستمبر سنہ 2011 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد امریکی افواج نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔
افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ جنگ ہے، دباؤ ہے۔ کبھی چیزیں ہمارے حق میں جاتی ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوتا لیکن ہم افغان عوام کا دفاع اور تحفظ جاری رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان کے قبضے سے اضلاع کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ہمارے پاس منصوبہ ہے۔‘
افغانستان کے شمال میں تخار اور بدخشاں کے ان اضلاع میں فوجی اہلکاروں اور حکومت کی حامی ملیشیا کو تعینات کیا گیا ہے جہاں طالبان نے نہایت سرعت کے ساتھ لڑائی میں بڑے علاقے پر قبضہ کیا اور اُن کو معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
افغان دفاع حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کی حالیہ کارروائیوں کے دوران فورسز کی بنیادی توجہ بڑے شہروں، سڑکوں اور سرحدی قصبوں کی حفاظت پر مرکوز ہے۔
رواں سال مئی میں امریکی افواج کی واپسی کا آغاز ہوتے ہی طالبان کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
عسکریت پسندوں کے حالیہ قبضوں اور پیش قدمی نے اس خوف میں اضافہ کیا ہے کہ افغان فورسز کے لیے مشکلات بڑھیں گی خاص طور پر بگرام ایئر بیس خالی ہونے سے لڑائی کے دوران سرکاری افواج کو امریکی فضائی مدد نہیں مل سکے گی.

877 total views, 0 views today

3 Replies to “افغانستان: ضلعوں کےکنٹرول کی جنگ،فورسز کےمزید کمانڈوزمیدان میں

  1. I do enjoy the manner in which you have presented this challenge plus it does indeed present us a lot of fodder for consideration. However, through everything that I have experienced, I just hope when the actual responses pile on that people today keep on issue and in no way start upon a soap box involving some other news du jour. Still, thank you for this outstanding piece and whilst I can not concur with it in totality, I regard your viewpoint.

Leave a Reply

Your email address will not be published.