News ٰآس پاسٰ تازہ ترین

اسلام‌ آباد یاترا حملہ کے خلاف سول سوسائٹی کا احتجاجی دھرنا

سرینگر//امرناتھ یاتریوں پر حملے کو کشمیری روایات اورا قدار پر ضرب قرار دیتے ہوئے تاجروں،صنعت کاروں،سماجی کارکنوں اور سیول سوسائٹی نے منگل کو جلوس نکالے اور احتجاجی مظاہرے کئے اور یک زبان ہوکراس خونین واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ کے بشری حقوق کمیشن یا کسی عالمی غیر جانبدارانہ ادارے سے کرانے کا مطالبہ کیا۔سیاحتی تاجروں نے اعلان کیا کہ واقعے کے خلاف بدھ کو وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں معطل رکھیں گے۔ جنوبی کشمیر کے بوٹینگو اسلام آباد(اننت ناگ) میں پیر کی شام ہوئے حملے میں ہلاکتوں کے خلاف تاجروں،صنعت کاروں اور سیول سوسائٹی کے علاوہ سماجی کارکنوں نے احتجاجی جلوس نکالے اور احتجاج کیا۔کشمیر سول سو سائٹی گروپوںنے 7یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف پرتاپ پارک میں احتجاجی دھرنا دیا اور بٹنگو میں پیش آئے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ احتجاجی دھرنے میں شامل سول سو سائیٹی ممبران نے واقعے میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن یا کسی دوسرے غیر جاندارانہ ادارے سے واقعے کی تحقیقات کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ دھرنے میں شامل سول سو سائٹی ممبران عبدالمجید زرگر، ایڈوکیٹ پرویز امروز، محمد یاسین خان اور اننت ناگ سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن فوزیہ نے دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے کشمیر میں امرناتھ یاترا کیلئے لوگ آتے رہے ہیں اور ہمیشہ سے ہی یاتریوں کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاتریوںپر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست اور مرکزی ایجنسیاں مختلف واقعات اور قتل عام میں ملوث لوگوں کی نشاندہی اور انہیں سزا دلانے میں ناکام رہے ہیں لہذا کنن پوش پورہ ، گائو کدل قتل عام اور دیگر واقعات کے علاوہ بٹنگو میں یاتریوںپر حملہ کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن یا کسی اور غیر جانبدار تحقیقاتی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے۔ ایڈوکیٹ خرم پرویز نے کہا کہ جس طریقے سے بٹنگو میں پیش آئے واقعے کے خلاف کشمیری عوام نے آواز اٹھائی ہے ، اسی طریقے سے بھارتی لوگوں کو اسکے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لوگوں کو صرف مخصوص واقعات کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے بلکہ کشمیر میں ہونے والے ہر قتل عام کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے مگر وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ ایسے قتل عام کے ذمہ دار بھارتی فورسز ملوث ہیں۔ سیاحت سے جڑے مختلف کاروباری انجمنوں سے وابستہ کارکنان نے بھی پریس کالونی میں یاتریوں کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کیا۔نگین ٹورسٹ ٹریڈرس ایسو سی ایشن نے احتجاجی مظاہرے کئے اور اس واقعہ پر مذمت کی۔ایسو سی ایشن کے صدر منظور احمد وانگنو نے یاتریوں کو ہر ایک کشمیری کا مہمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم انسانوں کوموت کی نیندسلادینے والے مذمت کے مستحق ہیں ۔سیاحت سے جڑے ہوئے لوگوں نے اس واقعے پر معیاد بند مدت کے دوران تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔سیاحتی تاجروں نے اعلان کیا کہ آج یعنی بدھ کو اپناکاروبار معطل رکھیں گے۔کشمیرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی طرف سے بھی اس واقعے کے خلاف احتجاجی مطاہرہ برآمد کیا گیا۔چیمبر کے جھنڈے تلے انکے مرکزی دفتر واقع پولو ویو سے پریس کالونی تک جلوس برآمد کیا گیا،جس کے دوران تاجروں اور صنعت کاروں نے اپنے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے۔ابرہیم شاداب کی سربراہی میں اس جلوس میں چیمبر کے سابق کئی صدور نے بھی شرکت کی۔انہوں نے اس واقعے کی سپریم کورٹ جج کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔معروف سماجی کارکن اورقانون داں ایڈوکیٹ عرفان حفیظ لون کی قیادت میں عام لوگوں اورسماجی کارکنوں نے پریس کالونی میں آکران ہلاکتوں کیخلاف پُرامن احتجاجی دھرنادیا۔ایڈوکیٹ عرفان حفیظ لون اوردیگرسماجی کارکنوں نے معصوم شہریوں پراندھادھندفائرنگ کوالمنا ک قراردیتے ہوئے کہاکہ ملوث اسلحہ بردارو ں کی حرکت کشمیری عوام کوبدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے ۔ایڈوکیٹ عرفان لون نے مزاحمتی قیادت کانام لئے بغیرکہاکہ متعلقین کواس واقعے کیخلاف احتجاجی ہڑتال کی کال دینی چاہئے تھی ۔اس دوران سالویشن مومنٹ کے چیرمین کی ہدایت پر سیکرٹری خواتین ونگ رقیہ بھاجی کی قیادت میں سالویشن مومنٹ کارکنوں نے یاتریوں اور سیاحوں پرہوئے حملے کے خلاف پریس کالونی میں احتجاج کیا۔ اس موقعہ پررقیہ بھاجی نے کہا کہ امرناتھ یاتری گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور آج تک ان کو کوئی شکایت کرنے کا موقعہ کشمیری عوام نے فراہم نہیں کیا ۔انہوں نے اس واقعہ کی بین لاقوامی سطح پرتحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔

1,701 total views, 0 views today

2 Replies to “اسلام‌ آباد یاترا حملہ کے خلاف سول سوسائٹی کا احتجاجی دھرنا

Leave a Reply

Your email address will not be published.