News برصغیر تازہ ترین

کشمیرسے متعلق چین کا پاکستان کوہانگ کانگ کی طرح 50 سال انتظار کرنے کا مشورہ

چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہانگ کانگ کے لئے پچاس سال تک انتظار کیا، بالآخر ہانگ کانگ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گرا۔
چین اپنے آپ کو غیر ضروری طور پر عقل مند سمجھتا ہے، عقل کا تعلق نہ تو رقبے سے ہے، نہ اربوں کی آبادی سے اور نہ ایک بڑی معیشت سے، ویسے کہاوت تو یہی ہے کہ جنہاں دے گھر دانے ، اوہناں دے کملے وی سیانے۔مگر ہر کہاوت پورا سچ نہیں ہو تی۔
چین میں بڑے بڑے دانا ہو گزرے ہیں مگر میں جس قوم سے تعلق رکھتا ہوں ، وہ کوئی احمقوں کی قوم نہیں، اس کے حکما، فیلسوف، منطقی دنیا میں صف اول میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ علم وحکمت کے استاد تھے ، اس لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ چین ہمیں کشمیر پر جو مشورہ دے رہاہے وہ سراسر مغالطے کا شکار ہے۔
اور اس مؤقف کے لئے میرے پاس ٹھوس اور ناقابل تردیددلائل ہیں۔
ہانگ کانگ اور کشمیر کے مسائل میں کوئی مماثلت ہی نہیں، ہانگ کانگ پر کسی بیرونی طاقت نے بزور طاقت قبضہ نہیں جما رکھا تھا۔ یہ برطانوی کالونی تو تھا مگر محض ایک ڈھیلا ڈھالا انتظام ، ہا نگ کانگ مکمل طور پر اندرونی معاملات میں خود مختار تھا۔
ہانگ کانگ میں کوئی آزادی کی تحریک نہیں چل رہی تھی، کوئی کاغذی تنظیم بھی ایسی نہیں تھی جو ملکہ برطانیہ کی علامتی غلامی سے ا ٓزادی کا مطالبہ کر رہی تھی جبکہ کشمیر میں عوام کی آزادی کے لئے جدو جہد کر رہی ہے۔

ہانگ کانگ پر ملکہ برطانیہ کے راج کی وجہ سے چین کو بجلی کے قحط کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ چین کبھی اس بنا پر اندھیروں میںنہیں ڈوبا۔ نہ چین میں ہانگ کانگ کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے قیامت خیز لوڈ شیڈنگ ہوئی،۔ جبکہ پاکستان اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔
چین جب ہمیں یہ مشورہ دیتا ہے کہ ہم اسی طرح کشمیر کے لئے پچاس برس انتظار کریں جس طرح اس نے ہانگ کانگ کا کیا، اول تو پچاس نہیں، ستر برس تک انتظار ہو چکا، کشمیر پکے ہوئے پھل کی شکل میں ہماری جھولی میں نہیں گرا. اس کی پاکستان کے ساتھ دوستی پہاڑوں سے اونچی ، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے مگر کیا کشمیر پر اس کا مشورہ اس طرح کا دوست دے سکتا ہے۔
چین کے علاقے سنکیانگ میں تو چند پٹاخے پھٹے ا ور چینی صدر نے دھمکی دے ڈالی کہ خنجراب کے اوپر آسمانوں کی بلندیوں تک کنکریٹ کی دیوار چن دی جائے تاکہ پاکستان سے کوئی دہشت گرد چین میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے .تو کیا ہانگ کانگ کے کسی شہری، کسی حکمران نے چین کواس طرح کی دھمکیاں دی تھیں اور کیا کبھی چین نے سوچا تک بھی تھا کہ ہانگ کانگ اور چین کے درمیان کنکریٹ کی سر بفلک دیوار تعمیر کر دی جائے ۔
تو جناب ! ہانگ کانگ اور کشمیر میں کوئی مماثلت نہیں ، کوئی مشترکات نہیں، چین کا مشورہ لائق توجہ نہیں ہے، ناقابل عمل ہے ۔ منطق سے سراسر عاری ہے۔
چین کے مفادات جس قدر پاکستان سے وابستہ ہیں، جس طرح شاہراہ ریشم اس کے لئے ضروری ہے ا ور جس طرح سی پیک کی تکمیل اس کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے تو پاکستان کے لئے کشمیر بھی اسی طرح ضروری ہے.
کشمیر پر انتظار کی صورت میں پتہ ہے کیا ہو گا، اگلے پچاس برس نہیں ،صرف
یہ ہے چین کا دانائی سے معمور مشورہ کہ جس طرح اس نے ہانگ کانگ کے لئے صبر کیا، پاکستان بھی کشمیر کے لئے صبر کرے، پاکستان صبر تو کر رہا ہے، بڑے فارمولے بھی بنتے ہیں کہ کشمیر کوکچھ عرصے تک بھلا دیا جائے مگر کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے صبر کا پھل میٹھا نہیں کڑو اہو گا، سو چین کے دانائوں سے معذرت کے ساتھ، میںاس مشورے کو مسترد کرتا ہوں اور پوری قوم بھی اگر میرے دلائل سے متفق ہے تو انتہائی احترام کے ساتھ چین کا یہ مشورہ مسترد کر دے۔
ویسے سی پیک کی سکیورٹی سے پاک فوج دست بردار ہو جائے تو چین کو پھر صرف ہانگ کانگ کی آمدنی ہی پر گزارا کرنا ہو گا۔ ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کے ذریعے تین براعظموں پر اس کی معاشی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ (روزنامہ نوائے وقت)

1,681 total views, 0 views today

2 Replies to “کشمیرسے متعلق چین کا پاکستان کوہانگ کانگ کی طرح 50 سال انتظار کرنے کا مشورہ

  1. Hello! Do you know if they make any plugins to help with SEO?
    I’m trying to get my blog to rank for some targeted keywords but I’m not seeing very good
    results. If you know of any please share. Thank you!

  2. Today, I went to the beach with my kids. I found
    a sea shell and gave it to my 4 year old daughter and
    said “You can hear the ocean if you put this to your ear.” She placed the shell to
    her ear and screamed. There was a hermit crab inside and it pinched her ear.
    She never wants to go back! LoL I know this is totally off
    topic but I had to tell someone!

Leave a Reply

Your email address will not be published.