News ٰآس پاسٰ تازہ ترین

کشمیر: امرناتھ یاتریوں پر حملے کی مذمت میں آزادی نواز بھی شامل


پیر کی شام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں مسلح حملے میں چھ خواتین سمیت سات ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی اداروں اور پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔
اس دوران پولیس نے اننت ناگ کے علاقے بوٹینگو سے چھ افراد کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔ تاہم جہاں علیحدگی پسندوں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کر کے ‘اس کی تہہ تک جانے کے لیے’ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، وہیں سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں اور دوسرے سماجی حلقوں نے منگل کو دن بھر لال چوک میں مظاہرے کیے۔
گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش راج بھون میں بھی اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت بھارت کے نائب وزیر داخلہ نے کی۔
اُدھر ہندو اکثریتی جموں میں تاجروں کی کال پر ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر ان ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق سرینگر میں کشمیری بولنے والے ہندو باشندوں کی انجمن کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی نے بدھ کو وادی میں ہڑتال کی تجویز پیش کر کے علیحدگی پسند اور ہند نواز گروپوں سے ہڑتال کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے یقین دلایا ہے کہ اس حملے میں ملوث افراد کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔
غاروں تک پہنچنے کے لیے پیدل اور خچروں پر سفر کرنا پڑتا ہے
پولیس کے صوبائی سربراہ منیر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی عسکریت پسند اسماعیل کا ہاتھ ہے۔ تاہم لشکر طیبہ کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے ایک بیان میں اس واقعے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
پاکستان میں کئی عسکری تنظیموں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی اپیل کی ہے۔
اپوزیشن کے رہنما فاروق عبداللہ نے اس حملہ کو ‘فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی کوشش’ قرار دیا اور کہا ‘اس وقت پورا ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہا ہے۔ یاتری صدیوں سے آتے ہیں اور آتے رہیں گے، کیونکہ اس وطن میں مذہب کی آزادی اب بھی ہے۔’
اس دوران جنوبی کشمیر کے پہلگام اور مشرقی کشمیر کے بال تل مقامات سے بدھ کو بھی یاتریوں نے پہاڑی پر واقع بھگوان شو سے منسوب برفانی عکس کے درشن کیے۔
حکومت اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ حملے کی زد میں آنے والی بس شرائن بورڈ میں رجسٹر کیوں نہیں تھی، اور یہ بس سات بجے کے مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد بھی اس شاہراہ پر کیوں جارہی تھی۔
کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حملے کی مذمت کی ہے
یہ سنہ 2000 کے بعد ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس وقت بندوق برداروں نے ہندو زائرین پر گولیاں برسائی تھیں جن میں دو پولیس اہلکار سمیت 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہندو زائرین کشمیر میں امرناتھ کے غاروں کی زیارت کے لیے آتے ہیں جہاں تقریباً چار ہزار میٹر کی بلندی پر برف سے ایک برہنہ مرد کی شبیہ بنتی ہے جسے وہ اپنے دیوتا شو کا عضو سمجھ کر پوجتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ برف کی اس شبیہ کو ایک مسلم چرواہے نے سنہ 1850 میں دریافت کیا تھا جو کہ دو ہندو پجاریوں کے ساتھ اس زیارت گاہ کا متولی بنا تھا۔

2,467 total views, 0 views today

2 Replies to “کشمیر: امرناتھ یاتریوں پر حملے کی مذمت میں آزادی نواز بھی شامل

  1. I will immediately grasp your rss as I can not find your e-mail subscription hyperlink or newsletter service.
    Do you have any? Please allow me recognise so that I may
    subscribe. Thanks.

Leave a Reply to ig Cancel reply

Your email address will not be published.