News بین الاقومی تازہ ترین عالم اسلام

کرونا نےاخبارات و صحافیوں کومشکل میں ڈال دیا: میڈیاکانفرنس

کورونا وائرس نے دوسری صنعتوں کی طرح معیاری صحافت کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے، لیکن یہ کئی حکومتوں کو خوب موافق بھی آرہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار دنیا کے مختلف اخبارات کے ایڈیٹرز نے ورلڈ اکنامک فورم کی میڈیا کونسل میں ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ان ایڈیٹرز میں واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹر انچیف مارٹن بیرن، ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے دی ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایڈیٹر انچیف ٹیمی ٹام، فرانسیسی اخبار لا مونڈ کی ایڈیٹوریل ڈائریکٹر سلوی کوفمین، امریکا کی بلومبرگ نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر جان میکلیتھویٹ اور دوسرے شامل تھے۔
اس ویب کانفرنس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر میں روزمرہ صحافت کو درپیش مسائل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

ٹیمی ٹام نے کہا کہ ہماری معاشی صورتحال بہت مشکل ہے اور ہمیں ہر طرح سے بچت کرنے کے اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کی تنخواہ میں کمی اور اسے تین ہفتے کی بلا معاوضہ چھٹی دی جارہی ہے۔ ہمارے اشتہارات سے آمدنی صفر ہو چکی ہے۔

مارٹن بیرن نے کہا کہ مشتہرین کورونا وائرس کے دوران اپنا نام دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ واشنگٹن پوسٹ کو اس کی مستقل رکنیت بچا رہی ہے۔
فرانس کے معتبر ترین اخبار لی مونڈ کی ایڈیٹوریل ڈائریکٹر سلوی کوفمین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پیرس میں صحافتی کام مختلف ورکنگ لنچز میں شرکت کے بغیر اور بھی مشکل ہے۔ لیکن آفیشلز اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے اردگرد صحافی نہیں ہیں۔ خود صدر ماکغوں تین یا چار صحافیوں کو یورپین سمٹ کے حوالے سے اپنی بریفنگ میں بلاتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی صحافی یورپین افئیرز پر دسترس نہیں رکھتا۔ برسلز میں بھی ایسی مشکل درپیش ہے ۔ وہاں اس دوران اب کوئی ڈور اسٹیپ پر سوال نہیں ہوتا۔ اب کسی لیڈر پر صحافتی دباؤ نہیں۔
بلوم برگ نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر جان میکلیتھویٹ نے اپنی باری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا مشرقی یورپ اور یہاں امریکہ میں صحافیوں کیلئے کام کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

حکومتیں اس وبائی صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے صحافت کرنے ہی کو مشکل بنارہی ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے برسلز میں تعینات ڈائریکٹر ٹام گبسن نے کہا کہ اطلاعات تک رسائی بھی اس وباء کا شکار ہوگئی ہے۔

اس ویڈیوکانفرنس کے دوران میزبان میڈیا کونسل کے بارے میں تعارفی کلمات بھی ادا کئے گئے جس میں بتایا گیا کہ یہ تنظیم روزانہ کی بنیاد پر بیروزگار ہونے والے صحافیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہی ہے۔

اسی دوران کہا گیا کہ اس وباء کے باعث نقصان اٹھانے والوں میں انتہائی معروف آن لائن پبلیکیشنز بزفیڈ، کوارٹز، Vice, میڈیا گروپ کوندے ناسٹ اور دی اکانومسٹ بھی شامل ہیں۔ جس نے ابھی حال ہی میں 90 ملازمین کو نکالا ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس میں ریجنل اخبارات و جرائد کو شامل کرلیا جائے تو یہ ایک طویل فہرست بن جائے گی۔

اسی دوران یہ بھی بتایا گیا کہ صرف امریکہ میں اس وباء کے بعد سے 36000 میڈیا ورکرز کی جاب چلی گئی۔ صرف آسٹریلیا میں 150 نیوز روم مستقل یا عارضی طور پر بند ہوگئے۔
اس ویڈیو کانفرنس میں اخبارات و جرائد پر سوشل میڈیا یعنی گوگل اور فیس بک کے ذریعے پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی اخبارات کیلئے خون کی طرح ضروری اشتہارات کی آمدن اب سوشل میڈیا لے کر جارہا ہے۔

کانفرنس کے دوران ایڈیٹرز میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ میڈیا کی اس صورتحال پر کئی حکومتیں صرف مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں۔

58 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.