News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

قصبہ شوپیان میں مدتوں بعد تصادم، 2جنگجو جاں بحق

شوپیان قصبہ میں14سال کے طویل عرصے کے بعد جھڑپ کے دوران 2جنگجو جاں بحق ہوگئے جن میں باردی سرنگ بنانے کا ماہرکمانڈر شامل ہے، تاہم ایک جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔اس دوران قصبہ میں پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جبکہ ضلع میں ہڑتال کی گئی اور کالج و دیگر تعلیمی ادارے بند کئے گئے اور انٹر نیت سہولیات معطل رکھی گئیں۔
کھانڈے محلہ میں 23پیرا، پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹیوں نے جنگجوئوں سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد جمعہ کی شام ساڑھے سات بجے محاصرہ کیا۔ اس دوران فورسز نے علاقے کے چاروں اطراف پر سیکورٹی کے کڑے پہرے بٹھاتے ہوئے کسی بھی شخص کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔ فورسز کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ علاقے میں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعد فورسز نے علاقے کا آپریشن عمل میں لایا۔جمعہ کی شام دیر گئے فورسز نے چند گھروں کی تلاشی لی تاہم پھر آپریشن صبح تک تک ملتوی کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح جونہی فورسز نے علاقے کے اندر مزید پیش قدمی شروع کی تو سوا 8بجے جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا بہت ہی مختصر تبادلہ ہوا جو مشکل سے 5منٹ تک جاری رہا۔معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ جنگجو ایک مکان کے صحن میں تھے جب فورسز نے انکا گھیرائو کیا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مختصر تبادلے میں دو جنگجو جاں بھق ہوئے تاہم ایک فرار ہوا۔بعد میں مہلوک جنگجوئوں کی شناخت جیش کمانڈرمنہ لاہوری ساکن پاکستان اور مقامی جنگجو زینت الاسلام ولد محمد اسحاق میر ساکن ترکہ وانگام شوپیان کے طور پر ہوئی۔
جھڑپ کے ساتھ ہی قصبہ میں دکانیں بند ہوئیں اور ٹرانسپورٹ بھی معطل ہوگیا۔ حکام نے دوران شب ہی انٹر نیٹ سہولیات معطل کی تھیں۔جونہی جنگجوئوں کی ہلاکت کی خبر پھیل گئی تو جامع مسجد اوربٹہ پورہ چوک میںپتھرائو، شلنگ اور پیلٹ کا استعمال ہوا۔جس کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔قصبہ میں طرفین کے درمیان کافی دیر تک جھڑپیں ہوئیں۔مقامی جنگجو زینت کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی جس کی بعد میں آبائی گائوں میں تدفین کی گئی جس میں سینکڑوں لوگ موجود تھے جنہوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

پولیس ترجمان کے مطابق طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم جانے کے بعد جونہی تلاشی پارٹی نے جائے جھڑپ اور ارد گرد مقام کی تلاشی لینی شروع کردی تو یہاں سے 2جنگجوئوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مارے گئے جنگجوئوں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی ضبط کیا گیا۔زینت الاسلام نامی جنگجو کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے دسویں تک تعلیم حاصل کی تھی اور اسکے بعد رنگ سازی کا کام کرتا تھا۔وہ 22مارچ 2019و جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔مہلوک جنگجو کا چاچا اور ماموں بھی جنگجو رہے تھے۔چاچا 1996میں جاں بحق ہوا تھا جبکہ ماموں 1990کے اوائل میں ہی مارا گیا تھا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ جھڑپ میں مارا گیا جنگجو کمانڈر منہ لاہوری سیکورٹی فورسز پر کئی حملوں میں ملوث تھا، جن میں 30مارچ 2019کو ہوئے بانہال بم دھماکہ اور 17جون 2019کو آری ہل پلوامہ میں فوج کی کیسپر گاڑی پر حملہ شامل ہے۔پولیس کے بقول منہ لاہوری نامی جیش کمانڈر آئی ای ڈی بنانے میں کافی مہارت رکھتا تھااس کے علاوہ وہ عام شہریوں کی ہلاکت میں بھی ملوث رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ تنظیم نے لاہوری کو یہاں خصوصی مشن کیلئے بھیجا تھا جس میں نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل کرانا بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں لاہوری نے جیش کے نیٹ ورک کو دوبارہ بحال کرکے کے بعد متحرک کرنے میں اہم رول ادا کیا.

21 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.