News ٰآس پاسٰ بین الاقومی تازہ ترین عالم اسلام

طالبان مذاکرات کی کہانی مذاکراتی وفد کے سربراہ شیرمحمدعباس کی زبانی

ایک پشتو چینل پر افغان طالبان کے مذاکراتی وفد کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی کا سلیس پشتو میں ایک تفصیلی انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا- افغانستان سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں کیلئے اسکا اصل الفاظ کے روح کے ساتھ اردو ترجمہ حاضر ہے- قارئین کی دلچسپی کیلئے بتاتا چلوں کہ ستانکزئی صیب نے سیاسیات (پولیٹیکل سائنس) میں ماسٹرز کیا ہے اور 1970 کی دھائی میں بھارت اور کابل کے قربت کے دنوں میں بھارتی فوجی اکیڈمی ڈیرادون سے فوجی تربیت حاصل کی لیکن بعد میں دوسرے مجاہدین کی طرح افغان جہاد میں روس کے خلاف لڑتے رہے اور جب 1996 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اسکے نائب وزیر خارجہ بنے- انکے انٹرویو کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:
١- ہم کسی بھی جنگ بندی کیلئے تمام امریکی افواج کا انخلا چاہتے ہیں چاہے وہ جنگی افواج ہو یا تربیتی- آخری امریکی فوجی کے انخلا تک ہم جنگ آزادی کو فرض جہاد سمجھتے ہیں اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا باقی ہم امریکیوں اور دنیا کے دوسرے ممالک کے تمام جائز مطالبات کو سننے اور اس سلسلے میں کسی بھی یقین دہانی یا معاہدے کیلئے تیار ہیں جس میں افغانستان کی سرزمین دنیا کے کسی بھی ملک خصوصاً ہمسایوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی اور کسی بھی دہشتگرد گرد تنظیم کو پناہ نہ دینا سرفہرست ہے-

٢- ہم افغانستان کی موجودہ حکومت کو امریکی قبضے کا نتیجہ سمجھتے ہیں اسلئے ان سے مذاکرات بے معنی ہیں لیکن ہم حکومت کے اندر اور اس سے باہر افغانستان کی تمام سیاسی قوتوں اور نسلی قومیتوں کو افغانستان کے قومی معاملات میں جائز حصہ دار سمجھتے ہیں اور انکو کسی بھی مستقبل کے سیاسی نظام میں انکے حثیت کے مطابق شراکت اقتدار کا حقدار مانتے ہیں- اس سلسلے میں بہرحال امریکا سے انخلا کا معاملہ طے پانے کے بعد ہی مذاکرات ہوسکتے ہیں-

٣- امریکا کا اربوں ڈالر سے قائم کردہ افغان ادارے اور نظام قومی ادارے نہیں بلکہ کٹ پتلی حکومت میں شامل مختلف قوتوں کے ذاتی اور گروہی مفادات کی بنیاد پر مسلط کئے گۓ بدعنوان مافیا ہیں جو کہ امریکی انخلا کے بعد نہ تو قائم رہ سکتے ہیں اور نہ ہی افغان عوام اور ریاست کے مفاد میں کام کر سکتے ہیں اسلئے انکی تطہیر کرکے ملی مفاد میں نئے ادارے اور نظام بنانے کی ضرورت ہے- ہمیں امریکا کی مسلط کردہ بدعنوان اور نااہل 3 لاکھ ملی اردو کے بجاۓ ایک افغانستان کے دفاعی ضروریات کے مطابق ایک چھوٹی سی قومی فوج اور امن امان قائم رکھنے ایک قانون نافذ کرنے کے ایک موثر نظام کی ضرورت ہے- ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے اصلاحات کیلئے مطلوبہ وسائل کی فراہمی کیلئے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک ایسی قومی حکومت قائم کرے جو کہ ہمسایوں کے علاوہ تمام دنیا کیلئے قابل قبول ہو اور جسکے خطے کی طاقتوں اور عالمی قوتوں سے اچھے تعلقات ہو تاکہ چین جیسی معاشی طاقتیں بھی یہاں سرمایا کاری کرسکے- اس کیلئے ہماری خوایش ہے کہ امریکا اس خطے سے ایک دوست کی حثیت سے جاۓ سابقہ سوویت یونین کی طرح شکست خوردہ دشمن بن کر نہ نکلے- (تقریباً انہی الفاظ میں اس خواہش کا اظہار پاکستانی فوج کے ترجمان نے ممکنہ امریکی انخلا کے بارے میں کیا تھا) – ہمیں امریکی افواج سے مسلہ ہے لیکن ہم امریکا کے اینجنئیروں اور ماہرین کا افغانستان کے تعمیر نو میں کام کرنے کا خیر مقدم کریںگے-

٤- غیر ملکی قبضے کے خاتمے کے بعد افغانستان کیلئے ایک متفقہ آئین پر ہم تمام افغان سیاسی قوتوں اور نسلی قومیتوں سے مشاورت کرکے ایک نیا نظام مرتب کریںگے لیکن وہ ہر صورت میں “اسلامی” ہوگا!

افغان طالبان کی تمام باتوں سے شائد ہی ان لوگوں کے علاوہ کوئی اتفاق نہ کرے جنکا وجود یا مفاد افغانستان میں جنگ اور امریکی قبضے سے وابستہ ہے لیکن باوجود یہ کہ افغان عوام کی اکثریت راسخ العقیدہ سنی حنفی مسلمان ہیں انکے “اسلامی نظام” کے قیام کا نکتہ جتنا سادھا نظر آتا ہے اتنا ہی پیچیدہ ہے اور شائد انکو ابھی اس بات کا ادراک نہیں- افغانستان اور پاکستان جیسے کثیر النسلی اور کثیر الثقافتی روایتی معاشروں میں اسلامی نظام کے قیام کا مسلہ نظریاتی نہیں بلکہ عملی الجھنیں رکھتا ہے جسکی جڑیں بقول علامہ اقبال مسلمانوں کی صدیوں کی فکری اور روحانی جمود میں ہے- احیاۓ اسلام کے معاملے میں افغانستان کی نسبت پاکستانی مسلمانوں کا فکری، عملی، سیاسی اور آئینی تجربہ کم از کم 100 سال زیادہ ہے- عرب دنیا کی “وہابی ملوکیت” (wahabi dictatorship) یا ایرانیوں کی “شیعہ ملائیت” (shia theocracy) نہ تو ہمارے معاشروں کیلئے قابل عمل ماڈلز ہیں اور نہ ہی خالصتا ً اسلامی نظام سیاسی کی جدید صورتیں! طالبان نے 1996 میں جو نظام بنایا تھا وہ بھی شیعہ ملائیت کا ایک سنی دیوبندی قسم کا متبادل تھا اور صرف ایک جنگی صورتحال میں اسکا قیام اور نفاز ممکن تھا جسکو افغانستان میں حالت امن میں کوئی مستقل آئینی شکل دینا تقریباً ناممکن ہوگا- آج کے دور میں اسلامی نظام کی کوئی بھی شکل ایک جمہوری اور ارتقائی سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے اور اگر افغانستان میں طالبان نے اسکو کسی بھی دوسرے طریقے سے نافذ کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ ماضی سے قطعا ً بھی مختلف نہیں ہوگا بلکہ شائد کہیں زیادہ خون ریز اور خوفناک ہوگا!

—–محمد ارشد خان صافی

2,153 total views, 0 views today

3 Replies to “طالبان مذاکرات کی کہانی مذاکراتی وفد کے سربراہ شیرمحمدعباس کی زبانی

  1. Hello! I simply would like to offer you a big thumbs up for the great information you have here on this post.
    I am returning to your website for more soon.

  2. It’s actually a cool and useful piece of information. I am satisfied that you shared this helpful info with us.
    Please stay us up to date like this. Thanks for sharing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.