News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

سیلبس میں سیاست کیوں؟ تحریر:‌ سیدین وقار

ریاست جموں کشمیر میںسکینڈری و ہائرسکینڈری درجوں کیلئے نصاب سازی کا کام جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے سپرد ہے جہاں ایک شاخ محض اس لئے بنائی گئی ہے تاکہ سکول میں اول سے لے کر بارہویں درجے تک مختلف مضامین کا نصاب مرتب کیا جائے ۔مذکورہ شاخ نے مختلف مضامین میں نصاب سازی کے لئے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سکولوں او ر کالجوں سے وقت وقت پر مضامین پڑھانے والے حضرات کو مدعو کیا جاتا ہے جن کی آرا ء لے کر ہی کسی بھی جماعت کے لئے کسی بھی نصاب کو تیار کیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود ہمارے یہاں گزشتہ تین چار عشروں سے ایک ہی جیسا نصاب رائج ہے۔ یہ ظلم زیادہ تر زبانوںکے ساتھ ہوا ہے۔ خصوصاً ریاست کی سرکاری زبان اردو میںجو سبق ہم نے خود 8ویں جماعت میں پڑھے تھے ،آج چالیس برس کے بعد وہی اسباق 11ویں اور بارہویں جماعت کے لئے مخصوص کردہ کتاب بہارستان اردو میں موجود ہیں ۔
اسی طرح گورنمنٹ سکولوں میں تیسری جماعت کے لئے رائج ماحولیاتی تعلیم یا (environmental studies)کی کتاب ایک اور مثال ہے۔ اس میں مادھو،سونال ،گرلین ، ناگ ارجن ،رمالو، چنا ما،جگو بھائی ، سیتاما، گیتاما ،سارما ،شنکر ،کلیانی ،چندو ،مالنی ،اونتکا،کرشنا ،انوری ، ساجدہ جیسے نام مختلف کرداروں کو دیئے گئے ہیں، اوران میں سے ایک بھی نام کشمیری سماج کا حصہ نہیں ہے۔کتاب کے 20ابواب میں 65کرداروں میں سے 60کے نام کشمیر میں نہ بولے جاتے ہیں اور نہ لکھے جاتے ہیں ۔جب کتابوں میں 92فی صد غیر مانوس مواد شامل ہو تو طالب علم کے علم میں کس طرح اضافہ ہو یہ اہم سوال ہے ؟
ماہرین کے مطابق جب آپ ایسی معلومات کو پڑھتے ہیں جو نہ تو آپ کی سماجی اور نہ ہی معاشرتی زندگی سے مطابقت رکھتی ہوں تو کیسے بچے کا ذہن ان کو قبول کرپائے گا اور یہ چیز ایک بچے کو اس سماج اور اس کے معاشرے سے الگ تھلگ کردیتا ہے۔سرکاری سکولوں میں چوتھی جماعت کی ماحولیاتی علم سے متعلق نصابی کتاب بھی پیچھے نہیں ہے ،مذکورہ نصابی کتاب کے ایک باب ’’ جموں وکشمیر کی سیر‘‘ (A vist to jammu kashmir)میں نسلی تعصب کو بنیاد بنایا گیا ہے جہاں ایک خطے کی کمیونیٹی کے تمام لوگوں کوبہادر کے طور پر پیش گیا ہے وہیں دوسرے خطے میں بود وباش کرنے والی دوسری کمیونیٹی آبادی کو گڈریا جتایا گیا ہے ۔کتاب کے ایک عنوان کے مطابق ’’ہم اپنا سفر جموں سے چھوٹی چھوٹی بسوں میں شروع کرتے ہیں ،جموں کے رہنے والوں کو ڈوگرہ کہتے ہیں ،جو ڈوگری زبان بولتے ہیں ، یہ لوگ اپنی بہادری کے لئے جانے جاتے ہیں ‘‘۔ اسی کتاب میں کشمیریوں کے بارے میں یو ں تذکرہ ہے: ’’وادی کے لوگ بھیڑ پالتے ہیں اور بھیڑ کی اون سے اچھی آمدن حاصل کرتے ہیں ‘‘یہ اور اس طرح کی دیگر کئی امثال بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی نصابی کتابوں میں ملتی ہیں جہاں حقایق کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے ،اغلاط اور حقیقت سے کوسوں دور اس نصاب کے بارے میں ماہر اساتذہ کا کہنا ہے کہ بدگمانی اور تعصب جان بوجھ کر پرائمری سطح کی نصابی کتابوں میں شامل کیا جاتاہے تاکہ معصوم بچوں کے خام ذہنوں کوفاسد کیا جائے۔دراصل بورڈ آف سکول ایجوکیشن میں نصاب سازی سے متعلق کمیٹیاں مافیا بن چکی ہیں جہاں پبلشروںکی طوطی بول رہا ہے اور وہ قطعی طور نصاب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیںکیونکہ انہیں اس صورت میں مالی نقصان کا ڈر رہتا ہے اور یوں پیسوںکی اس ریل پیل میں بچوں کے مستقبل پر شب خون مارا جارہا ہے ۔
اگرچہ قومی درسیات کا خاکہ (NCF) 2005میں سفارش کی گئی تھی کہ بچوں کی سکول کی زندگی ،ا ن کی باہر کی زندگی سے ہم آہنگ ہونی چاہئے ۔یہ زاویہ نظر کتابی علم کی اس روایت کی نفی کرتا ہے جس کے باعث آج تک ہمارے سماج اور سکول کے درمیان فاصلے حائل ہیں ۔لیکن جس طرح کی نصاب سازی ہماری ریاست میں ہورہی ہے وہ خود اس خاکے کے خلا ف ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ریاستی تعلیمی بورڈ کا نصاب کسی بھی طور ملکی سطح پر دوسری ریاستوں یامرکزی تعلیمی بورڈ کے نصاب سے ہم پلہ نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے مسابقتی امتحانات میں پچھڑ جاتے ہیں کیونکہ ہمارا نصاب ہی ایسا ہے جو بچوں کو لولالنگڑا تیار کرتا ہے اور اب وہی بچے ملکی سطح کے مسابقتی امتحانات میں کامیابی پاتے ہیںجو کہنے کو تو ریاستی تعلیمی بورڈ سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں لیکن ان کی ساری کوچنگ مرکزی تعلیمی بورڈ کے نصاب کے تحت ہوتی ہے اور پھر جب وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہمارے ارباب حل و عقد سینہ تان کر ان کی کامیابی کا جشن مناتے ہیں۔کیا سیاسی چرثوموں سے بوجھل نصاب سازی کا عمل درست ہوسکتا ہے؟

2,623 total views, 0 views today

One Reply to “سیلبس میں سیاست کیوں؟ تحریر:‌ سیدین وقار

  1. Greate pieces. Keep posting such kind of info on your page.
    Im really impressed by your site.
    Hey there, You have performed a great job. I’ll definitely digg it and for
    my part recommend to my friends. I am confident they’ll be benefited
    from this website.

Leave a Reply

Your email address will not be published.