News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

سو مزیدفورسزکمپنیوں کی تعیناتی بعد 100پولیس کمپنیاں تیار رکھنےکاحکم

مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے وادی کیلئے فورسز کی مختلف ایجنسیوں کی 100اضافی کمپنیاں فوری طور روانہ کرنے سے مختلف قیاس آرائیوں کے بیچ وادی میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس دوران سنیچر کو جموں میں تعینات آرمڈ پولیس کمانڈنٹوں، آئی آر پی بٹالین کمانڈروں،پولیس تربیتی کالجز تلوارا، وجے پور اور کھٹوعہ کے پرنسپلوں کے نام وائر لیس پیغام کے تحت انہیں پولیس کی اضافی 100کمپنیوں کو تیار رکھنے اور تشدد آمیز مظاہروں کو روکنے کے آلات سے متعلق آگاہ کرنے کی ہنگامی طور پر ہدایات دی گئی ہیں۔تاہم ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (لاء اینڈ آرڈر) منیر احمد خان نے قیاس آرائیوں کومسترد کرتے ہوئے اسے معمول کی کارروائی سے تعبیر کیا ہے۔ مرکزی سرکار کے اس اقدام پر وادی کے سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں کافی تشویش پائی جارہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35Aکو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں 15اگست کے فوراً بعد کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔منیر احمد خان نے کہا کہ مرکزی سرکار کو وادی کشمیر میں مزید فورسز کمپنیاں تعینات کرنے کا پروگرام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے جو تعینات فورسز اہلکار وادی میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں ، انہیں رخصت کرکے نئے اہلکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے لہٰذا مزید اضافی نفری کی تعیناتی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس منعقد ہوئے بلدیاتی انتخابات کے موقعے پر مرکزی سرکار نے یہاں کئی اضافی کمپنیوں کو تعینات کردیا تھا لہٰذا ان کی رخصتی کے بعد نئے اہلکاروں کو ان کی جگہ تعینات کیا جائیگا۔ خان کا کہنا تھا کہ فی الوقت وادی کشمیر میں 200ٹریننگ کمپنیز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور انہیں مرحلہ وار طریقے پر وادی سے رخصت کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیری میں فی الوقت 200نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں تعینات کی جاچکی ہیں جو مختلف محاذوں پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ادھر سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل روی دیپ سنگھ سائی نے اضافی فورسز کمپنیوں کی تعیناتی کو معمول کا عمل قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا’’جب بھی امن وقانون قائم کرنے کے گرڈ کو مستحکم کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو ایسا کیا جاتا ہے، ماضی میں اضافی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی’۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے ریاستی حکومت کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں سی آر پی ایف کی 50، بی ایس ایف کی 10 کمپنیاں، ایس ایس بی کی 30 کمپنیاں اور آئی ٹی بی پی کی 10 اضافی کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اضافی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ کونٹر انسرجنسی گرڈ کو مضبوط بنانے اور لاء اینڈ آڈر کو یقینی بنانے کے لئے لیا گیا ہے

25 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.