News برصغیر تازہ ترین

روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کےخلاف سرینگرمیں احتجاج

سرینگر = جیلوں میں اسیرنظربندوں اور روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے لالچوک میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا جس کے دوران ٹی وی چینلوں پر مزاحمتی قائدین، علماء، سماجی و سیاسی لیڈرشپ، تاجروں اور دوسرے لوگوں کے خلاف’ زہر آلود پروپیگنڈا مہم ‘چلانے کا الزام عائد کیا گیا۔شہر میں منگل کو گائو کدل سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے جلوس برآمد ہوا،جس کے دوران اسلام و آزادی کے علاوہ روہنگیائی مسلمانوں اور جیلوں میں نظربند قیدیوں کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔احتجاجی جلوس میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے کئی کارکنوں اور لیڈروں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینراور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے جن پر’’جیلوں میں نظر بند اسیر ہمارے ہیرو ہیں، کئی ادارے ہماری سیاسی جدوجہد ختم کرنے کیلئے ہے اور عالمی برداری نظربندوں کی رہائی میں کردار ادا کریں‘‘ کے نعرے درج تھے۔احتجاجی جلوس میں مولوی بشیر عرفانی، غلام نبی زکی، غلام رسول ڈار عیدی، شوکت احمد بخشی، مشتاق احمد صوفی، نثار حسین راتھر، فاروق احمد سوداگر، سراج الدین میر، یاسمین راجہ، محمد یاسین بٹ، شیخ عبدالرشید، مختار احمدصوفی، بشیر احمد کشمیری،محمد یاسین عطائی، امتیاز حیدر، محمد صدیق شاہ، پروفیسر جاوید، سید محمد شفیع، محمد صدیق ہزاری، اشرف بن سلام، امتیاز احمد شاہ، مشتاق احمد خان،بشیر احمد اندابی، ظہوراحمد شیخ، محمد یوسف باباشامل تھے۔احتجاجی مظاہرین نے اکھاڑہ بلڈنگ تک احتجاج کیا،اور نعرہ بازی کرتے ہوئے وہی پر دھرنا دیا،تاہم بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوئے۔اس موقعہ پر مزاحمتی لیڈرشپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا’’جموں کشمیر کی جیلیں اور پولیس تھانے ہزاروں کشمیریوں جن میں بچے ،بوڑھے،جوان اور خواتین بشمول سیدہ آسیہ انداربی اور انکی ساتھی فہمیدہ صوفی بھی شامل ہیں ،سے بھرے ہوئے ہیں اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں‘‘۔انہوںنے کہا کہ کئی مزاحمتی لیڈراں شبیر احمد شاہ، پیر سیف اللہ، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، شاہد الاسلام،الطاف احمد شاہ، معراج الدین کلوال اور فاروق احمد ڈار(بٹہ کراٹے) ، کے علاوہ تاجر ظہور احمد وٹالی اور فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف اور کولگام کے جاوید احمد تہاڑ جیل اور دہلی کے دوسرے اذیت خانوں میں مقید ہیں جبکہ وسرے افراد جن میںمحمد یوسف فلاحی،امیر حمزہ، بشیر احمد راتھر( بویا)، میر حفیظ اللہ،مولانا سرجان برکاتی، محمد رفیق گنائی،عبدالغنی بٹ ،ہلال احمد ملک،عاطف حسن، عرفان احمد خان، محمد یوسف باغوان اور دوسرے لوگ قابل ذکر ہیں، بھی کالے قانون پی ایس اے کے تحت جیلوں میں سڑائے جارہے ہیں۔مزاحمتی لیڈروںنے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ عالمی فورم کشمیری اسیروں سے متعلق بھی اقدامات اُٹھائے گی اور ان کی حالت زار کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کرے گی تاکہ ان اسیروں کو کچھ راحت میسر آسکے.

1,696 total views, 0 views today

One Reply to “روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کےخلاف سرینگرمیں احتجاج

  1. Simply wish to say your article is as surprising. The clearness
    to your post is just excellent and i can think you are knowledgeable on this
    subject. Fine with your permission allow me to seize
    your feed to keep updated with impending post. Thank you 1,000,000 and please continue the enjoyable work.

Leave a Reply

Your email address will not be published.