News برصغیر بین الاقومی تازہ ترین عالم اسلام

برما میں مسلمانوں کے خلاف آگ اور خون کی ہولناک ہولی جاری

قدسیہ ممتاز
دنیا مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مذبح خانہ بن گئی ہے۔ جدھر نظر ڈالو قصابوں کا کوئی نہ کوئی گروہ ہاتھ میں بغدے اور چھریاں لئے اپنا پسندیدہ مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جو مسلمان اس کاٹ پیٹ سے بچ رہتے ہیں وہ دربدری کا لامتناہی عذاب جھیل رہے ہیں۔دنیا کا کام بس اتنا ہے کہ وقتا فوقتا اس کاٹ پیٹ کی مذمت کرتی رہے تاکہ قصابوں کا دل لگا رہے کہ کوئی تماشہ دیکھنے والا بھی ہے اور وہ پورے شرح صدر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔
گذشتہ کچھ عرصے سے یہ مذبح خانہ ہمارے پڑوس برما میں پورے اہتمام کے ساتھ سجا ہوا ہے۔ روہنگیا مسلمان ،مسلمان ہونے کا داغ اپنے خون سے دھو رہے ہیں لیکن داغ اتنا پکا ہے کہ ہر بار پہلے سے زیادہ گہرا ہوجاتا ہے۔یہ وہ بدنصیب ہیں جن کا خدا کی اس زمین پہ کوئی ٹھکانہ نہیں۔ باون مسلمان ملکوں کے ہوتے ہوئے جن میں تیل کی دولت سے مالامال عرب ممالک بھی شامل ہیں، کوئی گھر نہیں اور پڑوس میں ایک مسلم ملک بنگلہ دیش ہوتے ہوئے بھی ان کے پیروں تلے زمین نہیں۔ یہ وہ روہنگیا مسلمان ہیں جو پندھرویں صدی سے برما کے صوبے اراکان میں بس رہے تھے جو اب راکھائین کہلاتا ہے ۔ ظلم و بربریت کی یہ داستان نئی نہیں ۔ 1938میں جب برمی بدھ برطانوی افواج کے خلاف جنگ آزادی لڑ رہے تھے تو ان روہنگیا مسلمانوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے تھے.برطانیہ سے آزادی کے بعد مسلمانوں کا پہلا قتلِ عام 1962ء میں ہوا جب فوجی حکومت نے اقتدارسنبھالنے کے بعد مسلمانوں کو باغی قرار دے کر اُن کے خلاف آپریشن شروع کردیا، جو 1982 تک جاری رہا اور اس میں کم و بیش 1 لاکھ مسلمان شہید ہوئے اور اندازاً 20 لاکھ کے قریب مسلمان اس دور میں بنگلا دیش، بھارت اور پاکستان کی طرف ہجرت کرگئے۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982ء کے سیٹزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے 8 لاکھ افراد اور برما میں موجود دوسرے دس لاکھ چینی و بنگالی، مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ گویا مذبح خانے کو باہر سے تالا ڈال کر قصابوں کو بے زبان جانوروں پہ چھوڑ دیا گیا اور مارچ 1997ء کو بدھ بربریت کی ایک نئی داستان رقم ہوئی۔ راکھین صوبے کے شہر’’مندالے‘‘ کے مسلم اکثریتی علاقوں پہ حملہ کردیا گیا مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ گھروں، مسجدوں اور مذہبی کتابوں کو نذرِ آتش کردیا گیا، دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا ۔ ان پہ تعلیم، روزگار اور تجارت کے دروازے آج بھی بند ہیں۔ وہ دو سے زیادہ بچے پیدا نہیں کرسکتے۔ شادی کی رجسٹریشن لازمی ہے جس کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے۔ انہیں علاج کی سہولیات حاصل نہیں ۔ ان کی باقاعدہ نسل کشی جاری ہے اور وہ اپنے ہی ملک سے براستہ سمندر بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ ہجرت کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں۔ اکثر یہ ہجرت پورے پورے خاندانوں کی بے کسی کے عالم میں غرقابی پہ متنج ہوتی ہے۔ان ممالک میں قائم مہاجر کیمپوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیے جانے والے ان رہہنگیا مسلمانوں کے ساتھ برما کی حکومت کے روا رکھے جانے والے مظالم اتنے خوفناک ہیں کہ مہذب دنیا کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور وہ رات رات بھر جاگ کر یہ تماشہ دیکھنے پہ مجبور ہے۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ یہ لٹے پٹے مہاجر جب جان بچانے کے لئے بنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں تو ان پہ سرحد پہ تعینات بنگلہ دیشی اہلکار فائر کھول دیتے ہیں۔بنگلہ قومیت کی بنیاد پہ بننے والا ملک انہیں اس لیے پناہ دینے کو تیار نہیں کہ وہ بنگالی نہیں برمی ہیں۔ ان مظلوم مسلمانوں کے پاس ایک یہی راستہ بچا تھاکہ وہ بنگلہ دیش اور برما کی سرحد پہ دلدلی علاقے میں اپنے کٹے پھٹے خیمے گاڑ کر زیست کرنے کی کوشش کریں ان کیمپوں میں مقیم ان مسلمانوں کی حالت زار ایسی ہے کہ ان کا دورہ کرنے والا ہالی وڈ اداکار میٹ ڈلن بھی رو پڑا۔ میٹ ڈلن جو پہلے سوڈان اور کانگو کے مہاجر کیپموں کا دورہ کرچکا ہے نے کہا کہ میں نے ایسی بہت سی جگہیں دیکھ رکھی ہیں جہاں تشدد کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے اور انسانیت خطرے سے دو چار نظر آتی ہے لیکن ان روہنگیا مسلمانوں کی حالت تو دگرگوں ہے۔۔ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس پوری دنیا میں کوئی گھر نہیں اور ایک مسلم نوجوان کا علاج اس لئے نہیں کیا جاتا کہ وہ مسلمان ہے۔یہاں نہ دوائیاں پہنچانے کی اجازت ہے نہ خوراک۔ایسا لگتا ہے انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔
یہ وہ خون رلانے والے حالات ہیں جن کے پس منظر میں 2016میں حرکتہ الیقین نے جنم لیا گو یہ پہلی مسلح تنظیم نہیں ہے ۔ اس سے پہلے 1948 میں مجاہدین کا ایک گروہ جو مشرقی پاکستان سے الحاق چاہتا تھا متحرک رہا۔ قانونی اور اصولی طور پہ ایسا ممکن نہ تھا لہذہ پاکستان کے الحاق سے انکار کے بعد مجاہدین کے اس گروہ نے راکھین میں ہی مسلمانوں کے حقوق کی جدو جہد جاری رکھی اور صوبے کے بڑے حصے پہ قبضہ بھی کرلیا۔1954 میں برمی حکومت نے ان کے خلاف آپریشن مون سون شروع کیا جس کے دوران مجاہدین اور مسلح افواج کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث مجاہدین کو 1961 میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔اس کے بعد 1974 سے لے کر نوے کی دہائی تک مختلف گروہ بر سر پیکار رہے جن میں RSO او ر آراکان روہنگیا اسلامی فرنٹ نامی تنظیمیں قابل ذکر ہیں۔روہنگیا سولیڈیریٹی آرگنائزیشن یا RSO کو آج بھی فعال سمجھا جاتا ہے لیکن اکتوبر 2016 میں حرکتہ الیقین کا نام اس وقت سامنے آیا جب برچھیوں اور چھریوں سے مسلح سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق منگداو اور راتھدانگ میں بارڈر پولیس کی چوکیوں پہ حملے شروع کردیے۔حرکتہ الیقین جس کا سربراہ عطا ء اللہ کراچی میں پیدا ہوا، تربیت یافتہ اور تجربہ کار روہنگیا پہ مشتمل ہے جن میں ایک سعودی عالم زیب الرحمن بھی ہیں جو اس گوریلا بغاوت کے حق میں فتوے جاری کرتے ہیں ۔ٹائم میگرین کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے ہی فتوے حرکتہ الیقین پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ امارات کے مفتیان کرام سے بھی حاصل کرچکی ہے اور یہ ایک اہم بات ہے۔اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ یہ مسلح جدو جہد کسی مسلم ریاست کے حکمران کے خلاف نہیں بلکہ بودھ ریاست کے مسلمانوں کے خلاف مظالم کے جواب میں برپا کی گئی ہے۔اگلے چند سالوں میں جب یہ مسلح جدوجہد باقاعدہ تحریک کا روپ دھار لے گی تو یہی فتوے کام آئیں گے عطا ء اللہ کو چاہئے کہ وہ انہیں سنبھال کر رکھے۔بادی النظر میں یہ ایک ایسی ہی تحریک ہے جیسی کشمیر اور فلسطین میں جاری ہے۔ لیکن اس کے آغاز کے ساتھ ہی چین کی نیند سوئی دنیا کے کام کھڑے ہونے شروع ہوگئے ہیں اور مہاجر کیمپوں میں دورے کرنے والے بین الاقوامی صحافی مظلوم مہاجروں کے ایسے بیانات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کے مطابق حرکتہ الیقین کی مسلح جدوجہد برما کے مظلوم مسلمانوں کا کیس خراب کرے گی اور ان کی مظلومیت کے تاثر کو زائل کرے گی۔اس بہانے سیکوریٹی فورسز اور برمی
فوج کو ان پہ مذید مظالم کرنے کا جواز حاصل ہوگا۔ حالانکہ دیکھا جائے تو اب تک انہیں کون سا جواز حاصل تھا؟اس کے علاوہ حرکتہ الیقین نے اب تک عام شہریو ں یا مذہبی گروہوں پہ حملے نہیں کئے ہیں۔اس کا ہدف واضح طور پہ پولیس اور سیکوریٹی فورسز ہیں جو براہ راست مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں پھر بھی وہ دن دور نہی جب حزب المجاہدین کی طرح حرکتہ الیقین کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جائے گا۔
حرکتہ الیقین کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے عطا ء اللہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ دنیا گواہ رہے کہ ہم کرہ ارض میں مظلوم ترین اقلیت ہیں جو گذشتہ چھ دہائیوں سے ہر طرح کا ظلم و ستم جھیل رہی ہے اور مسلم دنیا ہمیں مسلسل نظر انداز کررہی ہے اور اپنے بھرپور وسائل کے باوجود ہمیں بچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ہم، اراکان کے بیٹے مجبور ہوگئے ہیں کہ اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائیں ۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے خلیج بنگال میں کسمپرسی کی موت پہ ہتھیار اٹھانے اور اپنا دفاع آپ کرنے کو ترجیح دی ہے۔
عطا ء اللہ غالبا بھول رہا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ہی امت مسلمہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ ایک وہ مسلم حکمران جنہیں ہر حال میں خلافت کے کیک کا وہ ٹکڑا عزیز ہے جو اس کے حصے میں آیا ہے دوسرا وہ جو عطا اللہ جیسے نوجوانوں پہ مشتمل ہے جو تنگ آکر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو دہشت گرد کہلاتے ہیں۔

1,742 total views, 0 views today

One Reply to “برما میں مسلمانوں کے خلاف آگ اور خون کی ہولناک ہولی جاری

  1. It’s a pity you don’t have a donate button! I’d most certainly donate to this fantastic blog!
    I guess for now i’ll settle for book-marking and adding your RSS feed to my Google account.
    I look forward to new updates and will talk about this blog with
    my Facebook group. Chat soon!

Leave a Reply

Your email address will not be published.