News ٰآس پاسٰ تازہ ترین عالم اسلام

ایرانیوں میں اردو سیکھنے کا جذبہ بے پناہ پایاجاتاہے: :وفایزداں منش

اردو اکادمی،دہلی کے زیر اہتمام قمر رئیس سلورجبلی ہال میں توسیعی خطبہ بعنوان ”ایران میں اردو زبان وادب کامنظر نامہ“ منعقد ہوا ۔اس موقع پر پروفیسر شہپر رسول نےمہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہ اردو اکادمی کے بہت سے اہم پروگراموں میں سے ایک سلسلہ توسیعی خطبات کا بھی ہے ، اکادمی میں ہمیشہ اہم شخصیات نے توسیعی خطبہ پیش کیا ہے ، آج کا توسیعی خطبہ بھی کافی اہم ہے اور اس خطبے کو وفا یزداں منش سے زیادہ بہتر کوئی اور نہیں دے سکتاتھا چوں کہ وفا ایران میں اردو پڑھاتی ہیں اور اردو کے منظر نامے سے بخوبی واقف ہیں۔
توسیعی خطبے کی خطیب ڈاکٹر وفایزداں منش نے کہا کہ مجھے اردوکے لیے کام کرکے دلی تسکین ملتی ہے ،لاشعوری طور پر اردو میری قسمت بن چکی ہے ، میں کہیں بھی جاتی ہوں یا میرا کہیں بھی جانا ہوتا ہے تو میرے ذہن میں ہمیشہ اردو آتی ہے کہ جہاں میں جارہی ہوں وہاں اردو کے ادارے اور افراد سے ملوں ۔ ایران میں پہلی بار اصفہان یونیورسٹی میں شعبہ اردو قائم ہوا ، آج سے تقریبا پچیس برس قبل تہران یونیورسٹی میں شعبہ¿ اردو قائم ہوا۔ ظاہر ہے اُس وقت ایران میں کوئی اردو نہیں جانتاتھا اس وقت پاکستان کے لوگوں نے شعبہ¿ اردو کو چلایا ، پھر آہستہ آہستہ پاکستان اور ہندوستان آکر ایرانیوں نے اردو سیکھی ، ابھی بہت سے ایرانی پاکستانی اور ہندوستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ایران میں اس وقت مسلسل اردو کے لیے کام ہورہاہے ، ایران میں تقابلی مطالعہ ، افسانے ،شاعری اور تنقید ہر صنف پر کام ہورہاہے ، ایران میں ادارہ¿ المعارف ایسا ادارہ ہے ،جہاں باضابطہ اردو کی تعلیم دی جاتی ہے ، ایران کے طلبہ کئی بار مجبورا ًاردو پڑھنا شروع کرتے ہیں لیکن بعد میں اردو ان کی دلچسپیوں کا اٹوٹ حصہ بن جاتی ہے ۔ ایران میں اردو کا جنم ذرا تاخیر سے ہوا لیکن اس کا فروغ وہاں بہت سرعت کےساتھ ہورہاہے ۔ انسائیکلو پیڈیا کا کام بھی وہاں بہت تیزی کے ساتھ ہورہاہے ۔ اس میں ہندوستان اور پاکستان کے اردو داں بڑی تعداد میں ہیں ۔ ایران کے ماہرین ِلسانیات بھی اب اردو اور اردو ادب کے قائل ہوتے جارہے ہیں ۔ایران میں بہت سے ماہرین اقبالیات و غالبیات ہیں مگر انہوں نے ان کے اردو کلام کو نہیں پڑھا ہے ۔ ایران میں اردو ادب کا ترجمہ نسبتاً کم ہوا ہے ۔ میری ایک شاگردہ نے انتظار حسین کے ناول بستی کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا ہے ، افتخار عارف کی شاعری کے ترجمے ہوئے ہیں ، عبدالحمید عرفانی نے اردو فارسی اور فارسی اردو کے لیے بہت قابل قدر کام کیا ہے۔ ڈاکٹر رضا حیدر ہمارے شاگردوں کو بلاتے ہیں اور وہ یہاں آکراس کا تذکرہ کرتے ہیں ، اس سے طالب علم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ، ایسا ہونا چاہیے ، ہمارے طلبہ وطالبات ہندوستانی تہذیب وتمدن کو دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں ۔اردو میں فارسی کا ایک اہم سرمایہ پوشیدہ ہے مگر میں کہتی ہوں کہ اردو کے احسانات ایران پر زیادہ ہیں کیوں کہ اردو نے ہمیں ہندوستان میں بہت عام کیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف سیر ایران پر ہمارے یہاں تنقیدی کام ہورہاہے ۔ ایرانی ریڈیو اور ٹی وی پر بھی اردو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں ۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے کہا کہ میں نے ایران جاکر دیکھا کہ وہاں اردو کے تئیں تشنگی ہے ، وہاں لوگوں میں اردو کے لیے بے چینی اور بے قراری بھی ہے ۔ میں نے تہران یونیورسٹی کو پانچ سو کتابیں بھیجی تھیں پھر وہاں کے صدرشعبہ نے جس طرح کی خوشی کا اظہار کیا اس سے ہم سب کو بڑی خوشی ہوئی ۔ایران میں سرکاری سطح پر اردو کا کوئی کام عموماً نہیں ہوتا ، ایرانی تہذیب وزبان خود اتنی قدیم ووسیع ہے کہ انہیں کسی اور زبان وتہذیب کی ضرورت نہیں ہے اس کے باوجود لوگ شوقیہ اردو پڑھتے ہیں ۔
پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ تہران یونیورسٹی کا شعبہ¿ اردو دراصل ترکی ،ایران اور پاکستان کے کسی معاہدے کے تحت قائم ہواتھا ، اسی وجہ سے وہاں کے شعبہ¿ اردو کا تعلق روز اول سے پاکستان سے ہے اور وہاں پاکستانیوں نے ایران میں یہ تاثر دیا کہ ہندوستان میں اردو ہے ہی نہیں ، اس حوالے سے پاکستانی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ایرانی حضرات نئے نئے الفاظ کے متبادل تلاش کرتے ہیں ، متبادل کی تلاش کے لیے پورا ایک شعبہ قائم ہے ، جس میں سینکڑوں لوگ کام کرتے ہیں ۔دہلی ریڈیو میں فارسی کے دو شعبے ہیں ، ایک دری ،دری وہ فارسی ہے جو افغانستان میں بولی جاتی ہے اور ایک فارسی جو ایران میں بولی جاتی ہے ۔ دہلی ریڈیو کے شعبہ¿ فارسی میں کام کرنے والے تمام لوگ ہندوستانی ہیں اور تہران ریڈیو کے اردو شعبے میں کام کرنے والے ایک بھی ایرانی نہیں ہیں وہاں یا تو ہندوستانی یا پاکستانی ہوتے ہیں ۔ایرانی لوگ ہندوستانیوں سے بڑی محبت کرتے ہیں ۔ تہران یونیورسٹی کا شعبہ اردو اپنے ابتدائی دور سے گزر رہاہے ۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ وہاں سے اردو کا مزید بہتر کام ہوگا۔
اس موقع پر نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر عمیر منظر نے کہا کہ ڈاکٹر وفا یزداں منش کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اردو میں کتابیں اور مقالے لکھے ہیں بلکہ اردو سمیناروں اور سمپوزیموں کو بھی مسلسل خطاب کرتی رہی ہیں ۔انہوں نے خالص اردو موضوعات پر ایرانیوں کو پی ایچ ڈی بھی کرائی ہے۔ اس موقع پر اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول نے آج کی خطیب ڈاکٹر وفایزداں منش اور صدر جلسہ پروفیسر شریف حسین قاسمی کو گلدستہ پیش کیا جب کہ اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے مہمان خصوصی ڈاکٹر رضا حیدر کو گلدستہ پیش کیا۔

2,007 total views, 0 views today

One Reply to “ایرانیوں میں اردو سیکھنے کا جذبہ بے پناہ پایاجاتاہے: :وفایزداں منش

  1. Very good website you have here but I was wanting to know if you knew of
    any forums that cover the same topics discussed in this article?
    I’d really love to be a part of online community where I
    can get opinions from other experienced people that share the same interest.

    If you have any recommendations, please let me know.

    Many thanks!

Leave a Reply

Your email address will not be published.