News ٰآس پاسٰ برصغیر تازہ ترین

الہ آباد: 36 تبلیغی جماعت والے کروناوائرس سے پاک نکلے

تبلیغی جماعت اور کورونا کے تعلق سے ایک اچھی خبر ہے ۔کورونا کے شبہ میں پولیس حراست میں لئے جا نے والے تبلیغی جماعت کے ۳۶؍ارکان کی جانچ رپورٹ نیگیٹو آئی ہے ۔ پولیس حراست میں لئے گئے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی تمام جانچ رپورٹ نیگیٹو آنے سے مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔
الہ آباد کے تبلیغی جماعت کے مرکز پر پولیس نے گذشتہ یکم اپریل کو بڑی کار روائی کی تھی ۔ شہر کے شاہ گنج میں واقع تبلیغی جماعت کے سب سے بڑے مرکز پر پولیس اور محکمہ صحت کے عملے نے چھاپہ مار کر مرکز میں قیام پزیر ۳۶؍ افراد کو اپنی حراست میں لیا تھا۔ پولیس نے جن ۳۶؍ افراد کو اپنی حراست میں لیا تھا ان میں سات افراد کا تعلق ملیشیا ،انڈو نیشیا اور تھائی لینڈ سے بتایا گیا تھا ۔اس میں ملیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں کو رونا پازیٹیو پا یاگیا تھا ۔اس غیر ملکی شخص کا علاج شہر سے باہر کوٹوا گاؤں میں کیا جا رہا تھا ۔لیکن اب محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ تمام مشتبہ افراد کی حتمی جانچ رپورٹ موصول ہو گئی ہے ۔اس جانچ رپورٹ میں تمام افراد میں کورونا نگیٹیو پایا گیا ہے۔
الہ آباد کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر جے ایس واجپائی کا کہنا ہے کہ پورے ضلع میں ۳۷۷ ؍ افراد کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا۔ اس میں ۳۶؍ افراد کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا ۔صرف ایک غیر ملکی شخص میں کو رو ونا پازیٹیو پایا گیا تھا ۔لیکن اس شخص کی تیسری رپورٹ بھی نگیٹیو آئی ہے ۔اس طرح تمام ۳۷۷؍ افراد کو ونا نگیٹیو قرار دئے گئے ہیں ۔ڈاکٹر جے ایس واجپائی کے مطابق تمام مشتبہ افراد کی رپورٹ نگیٹیو آنے کے بعد الہ آباد ضلع کو گرین زون میں شامل کر لیا گیا ہے ۔یعنی فی الحال الہ آباد ضلع میں ایک بھی کورونا کا مریض نہیں ہے۔
واضح رہے کہ یکم اپریل کو پولیس نے تبلیغی مرکز کے قریب واقع مسلم مسافر خانہ اور کئی مساجد اور مدرسوں کی بھی تلاشی لی تھی ۔تبلیغی مرکز کی مسجد شیخ عبد اللہ کے امیر اور متولی سمیت پولیس نے ۳۶؍ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر ائی۔ پولیس نے حراست میں لئے گئے لوگوں کو سینیٹائزڈ کرکے قرنطینہ میں بھیج دیا تھا۔ اب الہ آباد کے تبلیغی مرکز سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کی جانچ نگیٹو آنے کے بعد قانونی طور سے ان کی رہائی ممکن ہو سکے گی

1,574 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.