News ٰآس پاسٰ تازہ ترین

اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ اہم گواہی: مزاحمتی اتحاد

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق پامالیوں سے متعلق پیش کردہ پہلی رپورٹ پر مزاحمتی خیمے نے اطمینان کااظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے مزید کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے الگ الگ بیانات میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر مسئلہ کشمیر حل کرنے اور حقوق پامالیاں روکنے پر دباﺅ ڈالے ۔حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے بھارت کے ہاتھوں جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف اقوامِ متحدہ کی طرف سے اظہار تشویش اور بھارت کی سرزنش کرنے کی کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دیر آید درست آید کے مصداق اقوامِ متحدہ جیسے ذمہ دار ادارے کو اپنی اعتباریت اور افادیت پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہےے اور مظلوم وکمزور قوموں کے جائز مطالبات اور مفادات کا تحفظ فراہم کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ حریت رہنما نے مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے میز پر پچھلے 70برسوں سے ایک حل طلب مسئلے کی حیثیت سے لٹکا ہوا ہے جس کی وجہ سے جموں کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں اور اس مسئلہ کا حل نہ صرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر بھی۔ حریت راہنما نے اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے اور جموں کشمیر سمیت فلسطین اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔اس دوران حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے 14 جون کو کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز اقوام متحدہ نے جموںوکشمیر پر قراردادوں کی منظوری کے بعد پہلی بار ایک مفصل رپورٹ منظر عام پر لائی ہے جس میں جموںوکشمیر کے عوام پر ہو رہے مظالم،حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ جموںوکشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں اور ان کو انکا پیدائشی حق دیا جانا چاہئے۔میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کے حوالے سے ذمہ داریوں کے ضمن میں پہلے سے اس طرح کی رپورٹ شائع کرنی چاہئے تھی تاہم دیر آئد درست آئد آخر کار اقوام متحدہ نے اپنی خاموشی توڑی جبکہ ہم گزشتہ 30 برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ کس طرح یہاں کالے قوانین، افسپا، مار دھاڑ، پیلٹ بلٹ اور زیر حراست ہلاکتوں کے بل پر یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے ۔جناب میرواعظ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت ہندوستان نے کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کے بجائے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا جبکہ یہ رپورٹ کسی جماعت یا فردکی نہیں بلکہ انصاف پسند اقوام پر مشتمل ایک ذمہ دار عالمی فورم کی رپورٹ ہے۔میرواعظ نے اپنی اور کشمیری عوا م کی طرف سے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ زید رعد الحسین کو اس طرح کی رپورٹ منظر عام پر لانے پر خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ دنیا کے انصاف پسند ممالک کو اس رپورٹ کا سنجیدیگی سے جائزہ لینا چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایک کمیشن کا قیام عمل میں لائیں جو کشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی بدترین پامالیوں کی تحقیقات کرے۔ درایں اثناءلبریشن فرنٹ چیئرمین نے اقوام متحدہ کی جانب سے جموں کشمیر پر جاری حالیہ رپورٹ کو انتہائی حوصلہ بخش قرار دیتے ہوئے اس کی سراہنا کی ہے۔ اس رپورٹ کو مظلوم و مقہور کشمیریوں کےلئے ایک خوشگوار اور حوصلہ افزا اشارہ قرار دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ ایک ایسے وقت پر کہ جب کشمیری محسوس کررہے تھے کہ عالمی برداری نے انہیں ظلم و جبر کے سامنے کٹنے مرنے کےلئے تنہا چھوڑ دیا ہے ، یہ رپورٹ کہ جو کشمیریوں کے مصائب اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کررہی ہے کسی امید افزا کرن کی طرح نمودار ہوئی ہے جس نے مظلوم اور دبائے گئے کشمیریوں کو نیا حوصلہ بخشا ہے۔لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ کشمیری عرصہ دراز سے بھارتی استعمار اور ناجائز تسلط کے ہاتھوں کٹ رہے ہیں اور پچھلے ستہر برس سے زائد عرصے کے دوران ہم پر ہر ظلم ڈھایا گیا ہے اور ہر قسم کی سازش آزمائی گئی ہے تاکہ اس سرزمین پر ناجائز فوجی تسلط کو جائز ٹھہرایا جاسکے اور مزاحمت میں مصروف کشمیریوں کی آواز کو اخاموش کریا جاسکے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین نے اقوام متحدہ اور اسکے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ مسئلہ جموں کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کرنے کےلئے ، اس سرزمین پر سے فوجی تسلط کے خاتمے کی کوششیں تیز کریں تاکہ یہاں رہنے والے کروڑوں انسانوں کی تکالیف کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

1,431 total views, 0 views today

One Reply to “اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ اہم گواہی: مزاحمتی اتحاد

  1. Wonderful work! This is the type of info that are supposed to be shared around
    the net. Disgrace on Google for now not positioning this submit higher!
    Come on over and seek advice from my website . Thank you =)

Leave a Reply

Your email address will not be published.