میں کیوں باغی ہوں:‌ معروف کالم نگار اوریا مقبول جان کا انٹرویو

معروف کالم نگار اور سینئر بیوروکریٹ اوریا مقبول جان کے ساتھ خصوصی انٹرویو
انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان
اوریا مقبول جان کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ کالم نگار، ڈرامہ نگار، شاعر اور سابق بیوروکریٹ۔ کیریئر کا آغاز تدریس سے کیا۔ سول سروس کے امتحان میں کامیابی کے بعد طویل عرصہ بلوچستان میں خدمات انجام دیں۔ مجسٹریٹ بھی رہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے کئی مشہور ڈرامے لکھے۔ پی ٹی وی کے دو ایوارڈز جیتے۔ شاعری کرتے ہیں۔ ایک مجموعہ ”قامت“ کے نام سے منظرعام پر آچکا ہے، جبکہ دوسرا تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جنگ سے کیا۔ پاکستان کے مقبول ترین کالم نگاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ملکی سطح پر دو بار بہترین کالم نگار کا ایوارڈ وصول کیا۔
اوریا صاحب دوٹوک انداز میں اپنی رائے کے اظہار کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی رائے سے اختلاف اور اتفاق کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک شاندار کیریئر گزارا۔ مختلف ادوار میں انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ لیکن ان کے مطابق ان کے طویل کیریئر میں تمام تر کوششوں کے باوجود کبھی ایک روپے کی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوسکی۔
اختلاف معاشرے کا حسن ہوتا ہے۔ اُمید ہے اوریا صاحب کے انٹرویو کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اوریا مقبول جان کے مخالفین بہت سے اعتراضات اُٹھاتے ہیں، اس انٹرویو میں بھی ان سے کئی تلخ سوالات کیے گئے، جن کا انہوں نے خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیا۔ ”دلیل“ نے پاکستان کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات سے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

سوال: اپنی ابتدائی زندگی سے متعلق کچھ بتائیں، کچھ خاندانی پس منظر بھی۔
اوریا مقبول جان: میں بہت سے نشیب وفراز سے گزرا۔ خاندان اوسط درجے کا تھا۔ آج جس جگہ ہوں، خاندانی پس منظر کی وجہ سے یہاں پہنچنے کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔ آپ کو کچھ پس منظر بتاتا ہوں شاید اندازہ ہوجائے۔ میرا پورا خاندان صدیوں سے قال اللہ و قال الرسول کے ساتھ وابستہ رہا۔ دادا عالم دین تھے، ’’مکیریا‘‘ سے ہجرت کرکے امرتسر آئے۔ وہاں کی مشہور مسجد ’’خیر الدین‘‘ میں خطیب ہوئے۔ یہاں کبھی مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بھی جمعہ پڑھانے آتے۔ دادا کے بھائی مولوی احمد بخش بھی ساتھ تھے، وہ بھی مشہور خطیب رہے۔ غالباً 1858ء یا 59 کا سال تھا، جب یہ لوگ امرتسر آئے۔ انجمن اسلامیہ امرتسر کا قیام اسی عرصے عمل میں آیا۔ وہاں اسکول کی تعمیر ہوئی، دادا اور ان کے بھائی نے اسی اسکول میں تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔ 1908ء میں دادا کا انتقال ہوا۔ اہلیہ بھی پہلو میں دفن ہوئیں۔ بعد میں، میں امرتسر گیا تو ان کے لیے وہاں کے مسلمانوں میں بہت احترام دیکھا۔ نانا بھی ایک مسجد کے امام تھے۔ تصوف سے گہرا تعلق۔
دادا کا انتقال ہوا تو والد صاحب صرف چھ ماہ کے تھے۔ دادی نے انہیں پالا پوسا، ان کی تربیت کی۔ 1947ء میں پاکستان بنا، تو والد صاحب ہجرت کرکے فیصل آباد آگئے۔ میری پیدائش بھی وہیں ہوئی۔ والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں، دوسری شادی سے میں ان کی پہلی اولاد تھا۔ بعد میں ہم گجرات آگئے، وہاں ابتدائی تعلیم شروع کی۔ گریجویشن ڈگری کالج گجرات سے کی۔ گریجویشن تک مگر کئی نشیب وفراز کا سامنا رہا۔ میں بارہ سال کا تھا، جب والد صاحب سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوگئے۔ ان کی معاونت ہر طرح سے شامل حال رہی، اس کے باوجود مگر بہت سی مشکلات سے خود نمٹنا پڑا۔ جزوقتی ملازمتوں کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری لی۔ میرے نمبر بہت اچھے تھے، کسی بھی ملازمت کے لیے میری پوزیشن مضبوط۔
باقاعدہ کیریئر کا آغاز ماسٹرز کے بعد کیا۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر رشید چوہدری مرحوم نے میرا زبانی امتحان لیا۔ وہ اس وقت ’’فاؤنٹین ہاؤس‘‘ لاہور کے سربراہ تھے۔ کافی متاثر ہوئے، کہا: کہیں اور نہیں جانے دوں گا۔ اسی دوران میں اقوام متحدہ کا ایک پروگرام شروع ہوا، اسے ریسرچرز کی ضرورت تھی۔ وہاں بھی اپلائی کیا اور منتخب ہوگیا۔ ایک ہی وقت میں دونوں کے ساتھ وابستگی اختیار کرلی۔ میری زندگی کے تین خواب تھے، جو اللہ نے پورے کیے۔ ان میں سے ایک لیکچرر شپ۔
افغانستان کی چودہ سو سالہ تاریخ میں طالبان سے بہتر کوئی حکومت نہیں آئی
یہ1979ء جنوری کا مہینہ تھا۔ میں نے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں لیکچرر شپ کے لیے درخواست دی۔ اسی دوران میں اقوام متحدہ کے UNDP پروگرام میں بھی قسمت آزمائی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 6 مارچ کو اقوام متحدہ کی طرف سے کال آئی کہ آپ کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔ آپ چھ ماہ میں جنیوا رپورٹ کردیں۔ اسی تاریخ کو بلوچستان یونیورسٹی میں میرا انٹرویو تھا۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ سردیوں کا موسم، چاروں طرف شیشے کی کھڑکیاں، شفاف آسمان سے اُترنے والی سورج کی کرنیں، جو جسم کو عجیب سکون کا احساس دلارہی تھیں۔ انٹرویو سے فارغ ہوا، اوپر کی منزل سے نیچے اُترنے لگا تو بتایا گیا کہ آپ منتخب کرلیے گئے ہیں۔ شش وپنج میں مبتلا۔ ایک ہی دن میں دو پرکشش ملازمتیں۔ ایک طرف خواب کی تکمیل، دوسری طرف پُرآسائش زندگی میری منتظر۔ ایک طرف پینتیس ہزار کی ناقابلِ یقین سیلری اور دوسری جانب محض نوسو روپے تنخواہ۔ مجھے لیکن فیصلہ کرنے میں زیادہ دِقت نہ ہوئی۔ یہی طے کیا کہ لیکچرر شپ کے اپنے خواب کو تعبیر دوں گا۔ 18 مارچ 1980ء کو میں بلوچستان یونیورسٹی میں ملازم ہوگیا۔ شادی کوئٹہ میں ہی ہوئی۔ میں اور میری اہلیہ ایک ساتھ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ ساتھ ہی گھر تھا۔ پیدل آتے، پیدل چلے جاتے۔ اس دور کی بہت خوبصورت اور دلنشین یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔
سوال: سول سروس میں کب اور کیسے آئے؟ کیا لیکچرر شپ سے دل اُچاٹ ہوا؟

اوریا مقبول جان: اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ 1983ء میں ’’تحریک بحالی جمہوریت‘‘ چل رہی تھی۔ ضیاء الحق نے سندھ، بلوچستان کو خوش کرنے کے لیے خصوصی مقابلے کا امتحان کروایا۔ میری عمر اس وقت مقررہ حد سے گزرچکی تھی، تاہم اس اعلان کے ذریعے ایک دو سال کی رعایت دی گئی تھی۔ نتیجے میں ایک بڑی تعداد اکیڈمی میں وارد ہوگئی۔ تقریباً دو سو افراد۔ زیادہ تر کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے تھا۔ جب اعلان ہوا،امتحان میں صرف ایک ڈیڑھ ماہ باقی تھا۔ غالباً جولائی کی آخری تاریخ کو فارم بھیجا۔ ستمبر کی پندرہ یا سولہ تاریخ کو امتحان تھا۔ اللہ پر توکل کرکے امتحان دے دیا۔ حیران کن طورپر کامیابی ملی اور 18 اکتوبر 1984ء کو سول سروس جوائن کرلی۔ دو سال اکیڈمی میں رہا۔مجھے پنجاب کا مزاج ویسے ہی راس نہیں آتا۔ ضیاء الحق ہمارے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں آئے تھے، میں نے ان سے درخواست کردی کہ بلوچستان ہی میں میری تعیناتی کردیں۔ وہ بہت حیران ہوئے، مجھے ان کا جملہ آج بھی یاد ہے۔ کہنے لگے: ’’بلوچستان تو کوئی جانا پسند نہیں کرتا، لوگ سکھر سے آگے جانا نہیں چاہتے۔‘‘ خیر! ضیاء الحق نے آفتاب احمد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو اسی وقت بلایا اور کہا: ’’اس بندہِ صحرائی کا آج نوٹیفکیشن ہوجانا چاہیے۔‘‘
میں چیلنج کرتا ہوں طالبان کے زمانے میں کوئی ایک لاپتا فرد بتائیں۔
لیکچرر شپ کے بعد سول سروس کا آغاز وہیں سے کیا۔ 24 سال گزاردئیے۔ پرویز مشرف نہ آتے تو شاید وہیں رہتا۔ وہ چاہتے تھے میں بلوچستان میں نہ رہوں۔ اس کی لمبی داستان ہے، اسے اب چھوڑتے ہیں، زندگی رہی تو پھر کبھی سہی۔

سوال: بیورو کریسی میں رہ کر شاعری اور لکھنے پڑھنے کا شغف کیسے پال لیا؟ کیا کوئی یہ خاندانی اثرات تھے؟
اوریا مقبول جان: میں بنیادی طور پر شاعر ہوں۔ مجھ سے کوئی پوچھے: میں کس صنف کو پسند کرتا ہوں تو وہ شاعری ہے۔ 1987ء میں میری پہلی کتاب ’’قامت‘‘ کے نام سے چھپ کر آئی، شاعری کا مجموعہ۔ شاعری کا آغاز کیسے کیا، یہ بھی دلچسپ کہانی ہے۔ اسکول کے زمانے میں تقریریں کیا کرتا تھا۔ علامہ اقبال کی برسی پر ایک بار تقریر کے لیے کہا گیا۔ اقبال کی شخصیت پر شعر تلاش کرنے تھے، جس سے تقریر کاآغاز کرتا۔ کافی تلاش کیا، مگر مایوسی ہوئی۔ چنانچہ خود ہی چند مصرعے لکھنے کی کوشش کی۔ جب تقریر اپنے ہی کہے ہوئے اشعار سے شروع کی تو اساتذہ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ تقریر کے بعد اساتذہ نے اس بارے میں پوچھا، انہیں بتایا تو انہوں نے کافی حوصلہ افزائی کی۔ اس وقت میں چھٹی کا طالب علم تھا۔ بعد میں گیارہویں جماعت سے میری غزلیں چھپنا شروع ہوئیں۔ شاعری میں سیاست بھی تھی اور رومانویت بھی۔ مگر رومانویت کا رنگ غالب تھا۔ پہلی کتاب ’’قامت‘‘ چھپی تو اس پر تبصرے یہی تھے کہ یہ ایک رومانوی شاعر ہیں۔
سوال: رومان کا ذکر آگیا، شاعری اور عشق کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کبھی عشق بھی کیا؟
اوریا مقبول جان: میری شادی ہی عشق کے نتیجے میں ہوئی۔ اہلیہ کا قد کافی بلند تھا، سو پہلی کتاب کا نام بھی انہیں سامنے رکھ کر ’’قامت‘‘ رکھا۔

سوال: آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامہ لکھا۔ کتنی تعداد ہے؟ ڈرامہ لکھناکیسے شروع کردیا اور کسی ڈرامے میں غالباً اداکاری بھی کی؟

اوریا مقبول جان: پہلی کتاب کی تقریب رونمائی میں جتنے آرٹیکلز پڑھے گئے، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ ان کی شاعری ’’منظوم ڈرامہ‘‘ ہے۔ ڈرامہ لکھنے کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوا، میں اس وقت اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ تھا۔ ’’پالیشا‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ چل رہا تھا۔ اس کا کاؤنٹر رول ایک ڈپٹی کمشنر کا تھا۔ Robert Sandman نام تھا۔ بعد میں وہ گورنر ہوجاتا ہے۔ اس کا کردار لکھنے کے لیے کچھ مشکل درپیش تھی۔ لکھنے والی ٹیم میں کمشنر عزیز لوری صاحب بھی تھے، پڑھے لکھے آدمی تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ میں نے گزارش کی: ’’لکھ لوں گا، غیرحقیقی کردار مگر نہیں ہونے چاہییں۔‘‘ ہم دیکھتے رہے تھے کہ انگریز کو غیرحقیقی روپ میں پیش کیا جاتا تھا۔ مثلاً: ’’پالیشا‘‘ انگریز کے دفتر کے دروازے کو لات مارتے ہوئے اندر داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے: ’’اوئے ڈپٹی کمشنر!‘‘ حالانکہ حقیقت کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہے۔ پھر اس انگریز سے ایک خاص قسم کے لہجے میں اُردو بلوائی جاتی تھی۔

لندن میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران میں تین ہزار سے زیادہ عورتیں تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ شرمین عبید مگر ہمارے ہاں پیدا ہوتی ہیں۔
خیر! ہم نے رابرٹ سینڈمن کی بیوی کا فرضی کردار تخلیق کیا۔ وہ اسکاٹ لینڈ سے ہوتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ والے برطانیہ کو پسند نہیں کرتے، نفرت کا رشتہ ہے۔ ہم نے اس کردار میں رابرٹ کی بیوی کو گھر کے اندر عوام کی ترجمانی کرتے دکھایا۔ انہی دنوں برطانیہ سے ایک اداکارہ آئی تھیں: کیتھرین بولڈن۔ یہ طے ہوا کہ اس سے انگریزی بلوائیں گے اور اُردو میں سب ٹائٹل چلا دیں گے۔ پاکستان میں اداکاروں کو تلاش کیا، لیکن جس کی انگریزی اچھی تھی، اس کی شکل وصورت کا مسئلہ بن جاتا۔ جس کا رنگ بہتر ہوتا، اس کی انگریزی میں دقت آرہی ہوتی۔ چنانچہ مجبوراً مجھے یہ کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ ٹی وی میں میرا پہلا اور آخری کردار تھا۔ اس کے بعد ڈرامہ لکھنے لگا۔ پہلی سیریز ’’روزن‘‘ آئی۔ ’’گردباد‘‘، جو بعد میں کتابی شکل میں بھی چھپا۔ ’’شہزاد‘‘ اور لاہور سینٹر سے ’’قفس‘‘ چلا۔ ’’قافلہ‘‘ کے نام سے سیریز لکھی۔ سترہ سال تک پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامہ لکھا۔ پی ٹی وی کے دو ایوارڈز جیتے: پہلا 1997ء، دوسرا 2007ء میں۔ دس سال سے کوئی ڈرامہ نہیں لکھا۔ البتہ 2013ء تک جو شاعری کی، وہ دوسرے مجموعے کی صورت چھاپنے کا ارادہ ہے۔

حبیب جالب انقلابیوں کے بارے میں کہتے تھے: تم لوگ انقلاب کا نام بھی ایسے لیتے ہو، جیسے ’’ہائے! میری جان انقلاب!‘‘
سوال: شاعری سے کالم نگاری تک کا سفر، شاعری بالکل ہی ترک کردی۔ شاعر پر کیفیت طاری ہوتی ہے، کیا وہ اب بھی ہوتی ہے یا کالم نگاری نے اسے ختم کردیا؟
اوریا مقبول جان: ہمارے ہاں شاعری سچ کم، یہ مظلومیت کا میڈیا زیادہ بن چکا ہے۔ غزل کے لفظ سے ہی آپ سمجھ سکتے ہیں۔ شاعری کے لیے کچھ خیال آتے ہیں، تو ان کا اظہار کالم میں کردیتا ہوں۔ کالم اسی لیے شروع کیا۔ جب میں ڈرامہ لکھتا تھا، اس میں کچھ کردار تخلیق کردیتا تھا جس کے ذریعے بات ہوجاتی۔ لیکن نائن الیون کے بعد سوچا کیا کرنا چاہیے؟ ابھی نوکری میں 17 سال تھے اور یہ دور کسی بھی سول سروس میں رہنے والے شخص کے عروج کا ہوتا ہے۔ اچھی پوسٹوں پر ترقی ہوجاتی ہے۔ کسی محکمے یا صوبے کی سربراہی مل جاتی ہے۔ میں نے شعوری فیصلہ کیا کہ بات دوٹوک کرنی ہے۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ کسی شعر پر وقت کا حکمران پکڑ کرے اور اسے بتایا جائے میرے مخاطب آپ نہیں، ایوب خان تھے۔ حبیب جالب یہی کہتے تھے: تم لوگ انقلاب کا نام بھی ایسے لیتے ہو، جیسے ’’ہائے! میری جان انقلاب!‘‘
پورے ملک کے اشتہارات کا بجٹ 25 ارب سے زائد نہیں۔ اس سے بمشکل دو ٹی وی چینل چل سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس وقت 80 چینل چل رہے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہاں سے ان کے لیے پیسہ آرہا ہے؟
کالم لکھنا شروع کیا، پرویز مشرف کا دور تھا۔ بڑا ہی تکلیف دہ۔ پاکستان کے مسائل پر لکھا جا سکتا تھا، امریکا کا مگر نام لینا جرم تھا۔ آغاز ’’جنگ‘‘ سے کیا۔ ہفتے میں تین کالم طے تھے، تین میں سے بمشکل ایک چھپتا، دو مسترد ہوجاتے۔ یہ دو مضامین ہفت روزہ اخبار ’’ضربِ مومن‘‘ میں چھپنے کے لیے بھیج دیتا۔ بعد میں ’’حکمِ اذاں‘‘ کے نام سے جس کا مجموعہ بھی چھپ گیا۔ اس مرحلے میں کئی کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً: پرویز مشرف کے دور میں میرے پیچھے نیب لگادی گئی۔ دو سال تحقیقات ہوتی رہیں۔ روز مجھے بلاتے، بٹھاتے اور انکوائری کرتے۔ دو سال بعد نیب سربراہ نے معذرت کی۔ کہنے لگے: ’’ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے ساتھ یہ سب ہو، مگر ہم ایسا کرنے پر مجبور تھے۔ اوپر سے دباؤ تھا۔‘‘ دراصل پرویز مشرف مجھے فارغ کرنا چاہتے تھے، مگر اس انداز سے کہ میرے اوپر بدنامی کا داغ لگ جائے۔ اللہ نے میری نصرت کی۔ بدعنوانی کا معمولی الزام بھی مجھ پر ثابت نہیں ہوسکا۔ میں عزت اور احترام کے ساتھ اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگیا۔
اس کے باوجود لکھنے سے باز نہ آیا۔ کبھی براہ ِ راست لکھتا، کبھی اپنی بات کہنے کے لیے تاریخ سے کوئی مثال لے آتا۔ مثلاً: ’’بہترین کالم نگار‘‘ کا پہلا ایوارڈ مجھے عدلیہ سے متعلق لکھے کالم پر ملا۔ 2002ء میں پی سی او کے تحت ججوں نے حلف اُٹھایا۔ پاکستان کے عدالتی نظام پر براہِ راست تنقید تو نہ تھی، تاریخ کے واقعات سے مگر میں نے ایسے واقعات چنے کہ بہت سوں کو ناگوار گزرا۔ مثلاً: میں نے لکھا سقراط کا مقدمہ جہاں لڑا گیا، وہ مقام محفوظ ہے، وکیل کا نام تاریخ میں موجود، بادشاہ کا نام ملتا ہے، اس جج کا نام مگر تاریخ کی کتابوں سے مٹ گیا۔ جتنے مشہور واقعات تھے، ان سب کا باری باری ذکر کیا اور لکھا یہ سب نام آج بھی محفوظ، ان کا فیصلہ سنانے والوں کے نام مگر تاریخ نے نفرت کے طورپر بھی محفوظ نہیں رکھے۔ اس کالم پر بہت شور شرابا ہوا۔ اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج، جو اس وقت بڑا نام ہیں، نے توہین عدالت میں مجھے بلانے کا مشورہ لیا، مگر انہیں بتایا گیا یہ تو ایک ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ موجودہ عدلیہ پر تنقید نہیں، پھرلکھنے والے کو کیسے مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔
سوال: بیوروکریسی میں ایک نام قدرت اللہ شہاب کا ہے۔ انہوں نے دورِ ملازمت کے بہت سے واقعات اور مشاہدات کو ’’شہاب نامہ‘‘ کی شکل میں لکھا، کیا آپ کا بھی ایسا کوئی ارادہ ہے؟

اوریا مقبول جان: ہمارے ہاں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ سول سروس سے فراغت کے بعد کتاب لکھ دی جاتی ہے۔ دس پندرہ سالوں سے مجھے بھی یہی کہا جارہا ہے کہ مشاہدات لکھوں۔ دوستوں کا بہت اصرار رہا، بزرگوںکا بھی حکم ہوا، مگر بنیادی طور پربات یہ ہے کہ بندہ جس قدر بھی بچنے کی کوشش کرے، لکھے میں ریا کا عنصر آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خوف بھی دامن گیر، کہ اپنی کوئی غلط بات چھپادی یا کسی معمولی واقعے کو بڑھا چڑھاکر پیش کردیا تو ضمیر کا اطمینان نہ رہے گا۔ میں ڈرامہ نگار ہوں، میں سمجھ سکتا ہوں کہ الفاظ کے چناؤ اور جملوں کے برتنے میں افسانے تخلیق ہوجاتے ہیں۔
میڈیا میں مجھ سمیت کوئی ایک آدمی بتادیں جس نے معاشرے پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کیے ہوں؟
ویسے میں زندگی کے بہت سے واقعات کالموں میں لکھ چکا ہوں۔ اگر کبھی لکھا بھی تو والدین سے متعلق لکھوں گا، جن کے میرے اوپر بے پناہ احسانات ہیں۔ انہوں نے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں، عام سی ملازمت کے ساتھ ہمیں رزقِ حلال سے پالا۔ جب والد اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ترکے میں ایک روپیہ نہیں تھا۔ والدہ نے بڑے صبر اور استقامت کے ساتھ ہمیں جینے کا سلیقہ سکھایا۔ مجھ سے آج کوئی پوچھے اپنی تحریروں میں کونسی زیادہ پسند آئی، تو ان دو کا حوالہ دوں گا، جن میں والدہ کا ذکر کیا۔ والدین نہ ہوتے تو آج میں اس مقام پر بھی نہ ہوتا، نہ رزقِ حلال کے لیے میری یہ تربیت ہوتی۔ میں اگر کوئی نقش ثبت کرسکا تو لکھنے والے اور بہت ہوں گے۔ مرنے کے بعد بھی لوگ چیزیں ڈھونڈلیتے ہیں۔

سوال: کچھ عرصہ قبل ڈی جی نیب نے کہا کہ اداروں میں کرپشن بیگمات کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ مجبور کرتی ہیں کہ ہمیں پیسہ لاکر دو۔ آپ کوبھی کبھی زندگی میں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا؟

اوریا مقبول جان: اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں۔ اس نے مجھے ایسی بیوی اور اولاد عطا کی کہ جنہوں نے صبروشکر کے ساتھ نبھا کیا۔ سچی بات یہ ہے کہ میری بیوی اور بچے میرا ساتھ نہ دیتے تو رزقِ حلال کمانا بہت مشکل ہوجاتا۔ بحیثیت لیکچرر آپ ایک ایماندار شخص کی زندگی گزارسکتے ہیں۔ آپ کا اُٹھنا بیٹھنا اپنے ہی جیسی آمدنی والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کے بچے بھی ویسے ہی اسکولوں میں جاتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ ویسے ہی شاپنگ مالز میں خریداری کرتے ہیں۔ تعطیلات کے دن بھی تقریباً سب کے ایک جیسے ہی گزرتے ہیں۔ مگر جب آپ سول سروس میں ہوتے ہیں، اس وقت بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ آپ کے کسی کولیگ کے بچے ملک کے بہترین اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ کبھی سنگاپور چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں، کبھی پیرس اور لندن۔ دبئی اور سوئزرلینڈ سے ان کی خریداری ہوتی ہے۔ یہاں اپنے اوپر جبر کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر اس سب میں میری بیوی کا بڑا اہم رول رہا کہ کبھی یہ نہیں کہا ہمارا مقابلہ فلاں کے ساتھ ہے۔ بچوں میں کسی نے سول سروس میں جانے کا نہیں سوچا، ان کا خیال تھا کہ جتنی مشکل زندگی ہم نے والد کے ساتھ گزاری ہے، شاید خود اپنے طور پر نہ گزارسکیں۔ انہوں نے رزقِ حلال کے لیے دوسرے ذرائع اختیار کیے۔
اپنی مدتِ ملازمت میں تین چیزیں ایسی ہیں، حق کے باوجود جن سے میں نے استفادہ نہیں کیا۔ ایک: سول سروس کے دوران میں کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا۔ حالانکہ ڈپٹی کمشنر کو پلاٹ ملتے ہیں۔ سرکاری زمینوں پر ’’مقبوضہ ڈپٹی کمشنر‘‘ لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ عام روایت ہے۔ دوسرا: میں نے زندگی میں کوئی سرکاری اسکالر شپ لے کر خود پڑھا نہ اپنی اولاد کے لیے یہ سہولت حاصل کی۔ تیسرا: سول سروس کے اکثر لوگ کسی نہ کسی بڑے کلب کے ممبر ہوتے ہیں۔ میں آج تک کسی کلب کا رُکن نہیں رہا۔ اگرچہ مجھے ممبرز سے زیادہ وہاں جاکر بات کرنے کا موقع مل جاتاہے، رکنیت مگر میں نے حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ایک بار سرفراز شاہ صاحب نے مجھ سے کہا: میں نے جم خانہ میں آپ کو بہت بار دیکھا۔ جب انہیں پتا چلا کہ میں رکن نہیں، تو انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ کہنے لگے: یہ تو سول سروس کے ساتھ سلی ہوئی آتی ہے۔
آپ اس وقت جس گھر کے اندر بیٹھے ہیں، جو اَب تک مکمل تعمیر بھی نہیں ہوسکا۔ یہ بھی کبھی تعمیر نہ ہوتا اگر مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد دو بڑی ملازمتیں نہ ملتیں۔ سرکاری ملازمت کے نتیجے میں اس سے بھی زیادہ کسی ویرانے میں میرا مکان ہوتا۔ مجھے کالم نگاری اور ٹی وی پروگرام سے بہت اچھی رقم مل جاتی ہے۔ میری توقعات سے بھی بہت زیادہ۔ آج اگر میرے پاس یہ مکان ہے تو اس کی رقم ان دو کاموں سے ملنے والا معاوضہ ہی ہے۔

سوال: آپ نے ملازمت چھوڑنے کے باوجود سرکاری مکان اپنے پاس رکھا۔ خاصے اعتراضات ہوئے، کیا بہتر نہ ہوتا بروقت مکان خالی کردیتے؟

اوریا مقبول جان: میں کئی بار وضاحت کرچکا ہوں۔ اسے اُچھالنے میں میرے میڈیا کے کچھ دوستوں کا بھی اہم کردار رہا۔ قرآن کی آیت ہے: ’’ولایخافون لومۃ لائم‘‘ ’’کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔‘‘
ہمارے ہاں جب سے میڈیا آیا ہے، بڑی شخصیتیں بننا بند ہوگئی ہیں۔
جس سرکاری مکان میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میری رہائش کا شور اُٹھا، قانونی طور پر میں دس ماہ تک اسے رکھنے کا مجاز تھا۔ میں نے ذاتی مکان بنانا شروع کیا تو رقم کم تھی۔ چنانچہ میں نے اپنے چینل سے پیشگی تنخواہ کی درخواست کی اور اسی رقم سے گھر بنانا شروع کیا۔ اپریل 2016ء میں ریٹائرمنٹ ہوئی۔ یکم فروری کو گھر مکمل ہونا تھا، اور مجھے اسی تاریخ کو سرکاری مکان خالی کرنا تھا۔ پندرہ دن پہلے عدالت میں معاملہ لے جایا گیا۔ عدالت سے کہا گیا تو مجسٹریٹ نے پندرہ دنوں کا نوٹس دے دیا۔ بصورتِ دیگر کارروائی کی ہدایت۔ میں نے مجسٹریٹ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اصل واقعہ کیا ہے۔ ’’اب آپ آئیں، میں ریلیف دے دوں گا۔‘‘ میں نے مگر وقتِ مقررہ پر اسے خالی کردیا۔ اگر میں مجرم ہوتا تو آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے یہ میرے مخالفین معاف کردیتے؟
سوال: آپ کی تحریر وتقریر میں انتہا پسندی کا عنصر غالب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کچھ آیات مسلمانوں پر منطبق کردیتے ہیں، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس طرزِ عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے؟
اوریا مقبول جان: میرا اللہ مجھے کہتا ہے: ’’اشداء علی الکفار۔‘‘ میرے اللہ نے ’’رحماء علی الکفار‘‘ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ میں کیوں شدت پسند نہ بنوں؟ پوری دنیا مجھ پر حملہ آور ہے۔ جہاں تک آیات یا احادیث کی بات ہے میں نے کبھی غلط انطباق نہیں کیا۔ میں نے آج ہی کالم لکھا ہے۔ بیت المال میں خیانت پر رسولِ رحمت ﷺ نے عبرتناک اور سخت ترین سزائیں دیں۔ ’’عکل‘‘ اور ’’عرینہ‘‘ کے دو افراد اونٹنیوں کو لے کر بھاگ گئے۔ رسول اکرم ﷺ کے علم میں آیا تو کچھ صحابہؓ کو کرزا بن جابر الفہری کے ساتھ کیا اور انہیں پکڑنے کے لیے بھیجا۔ دھرلیے گئے، واپس لائے گئے تو سرکارﷺ نے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ سزا دے کر انہیں صحرا میں پھینک دیا، خاک چاٹتے وہاں مرگئے۔ یہ کفار تو نہیں تھے، مسلمان ہی تھے نا۔ حجاج بن یوسف کے پاس ایک آدمی کھڑا تھا۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں: میں بہت سخت سزائیں دیتا ہوں۔ اس شخص نے کہا: ’’رسول اکرمﷺ تم سے زیادہ سخت سزائیں دیتے تھے، اگر جرم درست ثابت ہوجاتا۔‘‘ حجاج کے سامنے یہ سزا سنائی گئی تو وہ کانپ گیا۔
میرے رسولﷺ سے زیادہ کوئی نرم دل ہوسکتا ہے۔ جو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، عالمین کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے۔ آج حالت یہ ہے ہمارے علمائے کرام بیت المال میں خیانت کرنے والوں کے پاس جاکر ان سے کہتے ہیں: ’’آپ بکروں کے صدقے دے دیں، اللہ آپ کی مشکلات آسان کرے۔‘‘ خیانت بنیادی طورپر ریاست کے ساتھ غداری ہے۔ عام قتل، چوری اور زنا کی نصوص موجود ہیں۔ یہ شدت پسندی نہیں۔ پورے حرابہ کا باب ہے۔ حضرت عمرؓ نے نجران کے عیسائیوں کو جزیرہ نما عرب سے نکال دیا تھا کہ یہ سود کھاتے ہیں۔ منکرینِ زکوٰۃ کیا تلواریں لے کر کھڑے ہوئے تھے؟ جہاد کو حرام نہیں قرار دیا تھا۔ اسلام کے دیگر ارکان پر عمل پیرا تھے۔ مگر بنیادی طور پر وہ ریاست کے اصول کے خلاف کھڑے ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا۔ میں ان واقعات کا ہی ذکر کرتا ہوں، اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کہا۔ کیا اسے شدت پسندی کہیں گے؟ یہ بات وہ لوگ کرتے ہیں جن کی اپنی زندگیاں شدت پسندی اور انتہا پسندی پر مبنی ہیں۔ جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو زبان، نسل اور رنگ کی بنیاد پر قتل کردیا۔
سوال: جن نظریات کا پرچار آپ کرتے ہیں، داعش، طالبان بھی وہی کچھ کہتے نظر آتے ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ ان کے پاکستان میں ترجمان ہیں۔

اوریا مقبول جان: پہلے تو یہ وضاحت کروں کہ میں طالبان اور داعش کو ایک ساتھ جوڑنے کو ہرگز تیار نہیں۔ یہ دونوں بالکل مختلف نظریات رکھنے والے ہیں۔ جہاں تک کچھ نظریات کے آپس میں یکسانیت کا تعلق ہے، ضروری نہیں کہ آپ کا نظریہ کوئی اور استوار کرلے تو آپ اپنا نظریہ چھوڑدیں۔ پاکستانی طالبان کے حق میں کبھی نہیں رہا۔ البتہ افغان طالبان کی بات ضرور کرتا ہوں۔ مجھے کوئی بتائے افغانستان کی چودہ سو سالہ تاریخ میں طالبان سے بہتر کوئی حکومت آئی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدین کے دور کو چھوڑکر ایسا پُرامن دور کسی نے افغانستان میں دیکھا؟ اتنی فعال حکومت کہ دنیا کے اندر ہیروئن کے لیے 91 فیصد پیداوار فراہم کرنے والا ملک زیرو پر آجائے۔ وہ جو ہم سنتے ہیں ایک عورت صنعا سے حضر موت تک سونا اُچھالتی ہوئی سفر کرے گی اور اسے خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ اسے ہم نے اپنی آنکھوں سے افغانستان میں دیکھا۔ قندھار سے ایک عورت چلتے ہوئے کابل پہنچتی اور اسے کوئی فکر نہ ہوتی کہ کوئی اسے لوٹ لے گا۔ میں نے وہاں جاکر حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ State become invisible۔ ’دنیا کی کامیاب ریاست وہ ہے جو نظر نہ آئے۔‘ پولیس نظر نہیں آرہی، لیکن چوراہے پر کوئی سگنل نہیں توڑرہا۔ طالبان نے اسے کردکھایا۔ کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں سات سے زیادہ نفری ہو۔ بڑے سے بڑے شہر میں دیکھ لیا۔ صرف سات طالبان۔ بہترین انتظامیہ، شاندار حکومت۔ اگر میں ان کا دفاع کرتا ہوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟

سوال: جس قدر خوف اور گھٹن کی فضا تھی، اس میں ایسا ہو بھی جائے تو کوئی کمال تو نہ ہوا!

اوریا مقبول جان: آپ وہی کہہ رہے ہیں جو امریکی کہتے ہیں کہ قبرستان کی خاموشی۔ یہ جھوٹ ہے، قطعاً جھوٹ۔ میں افغان سرحد کے قریب ڈپٹی کمشنر رہا، پاکستان میں پانچ کیسز ایسے جانتا ہوں کہ لوگ اپنا انصاف کروانے طالبان کے پاس گئے۔ خوف کی فضا کی بات کررہے ہیں، طالبان کے زمانے میں کوئی ایک لاپتا فرد بتائیں۔ میں آج یہاں کسی مولوی سے تبادلہ خیال کرتا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ یہ بات ایسے ہونی چاہیے تو اسے خوف لاحق ہونے لگتا ہے کہ کہیں شیڈول فورتھ میں نہ ڈال دیا جاؤں۔ کوئی اُٹھاکر نہ لے جائے۔ کمال کرتے ہیں آپ، چار لوگوں کو بھونکنے کی اجازت ہے تو اس کا مطلب لیتے ہیں کہ ہم بہت آزاد ہیں۔ میں ایک بار پھر چیلنج کرتا ہوں کوئی ایک Missing person مجھے طالبان کے زمانے میں بتائے۔ خوف کی فضا وہاں ہوگی جہاں کوئی ایک بھی لاپتا فرد نہ ہو؟

سوال: گلہ کیا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں میڈیا آزاد ہے، ہم اب تک زنجیروں میں جکڑے ہوئے، کیا آپ کو بھی آزادی اظہار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
اوریا مقبول جان: اقبال کا شعر ہے:

گو فکرِ خداداد سے روشن ہے زمانہ

آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد

پاکستان میں میڈیا دنیا کے تمام میڈیا سے زیادہ آزاد ہے۔ امریکا، برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد۔ ویسے ہمارے ذہنوں میں بٹھایا گیا ہے کہ میڈیا آزاد نہیں تو ترقی ممکن نہیں۔ بیجنگ یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے۔ علم کی ترقی گوگل، فیس بک اور یوٹیوب سے تعلق نہیں رکھتی۔ میڈیا کیا کرتا ہے۔ دو چیزیں ہیں جو آپ کا معاشرہ تباہ کرتی ہیں: نصابِ تعلیم اور میڈیا۔ جسے غامدی صاحب سمیت بہت سے کہتے ہیں کہ broad band education، بارہ سال تک ہونی چاہیے۔ اس عمر تک بچے کے اوپر پورا ماحول پینٹ ہوجاتا ہے۔ بچہ سینڈریلا، سنو وائٹ پڑھتا ہے۔ وہ مسجد کی اذان نہیں سنتا، وہ church bells talk۔ وہ ٹارزن اور Santa Claus کی کہانیاں پڑھتا ہے۔ جس میں ٹارزن جنگل میں رہتا ہے، مگر صبح صبح حجامت ضرور بنواتا ہے۔ کارٹون میں ہمارا لباس نہیں دکھایا جاتا ہے تاکہ بعد میں اغیار سے اجنبیت محسوس نہ ہو۔ ایسے ماحول میں پلنے والا بچہ شلوار قمیص پہنے شخص کو جاہل نہ سمجھے تو کیا سمجھے؟ اس کے نزدیک دیہاتی زندگی وحشیوں کی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسے پڑھنے باہر جانے کا موقع ملتا ہے تو سمجھتا ہے میں اپنے خوابوں کی دنیا میں آگیا ہوں۔ یہ تو ہمارے ساتھ ہمارا نصابِ تعلیم اور تعلیمی نظام کرتا ہے۔
تقریباً تین ہزار عورتیں ہر سال امریکا میں اپنے سابق بوائے فرینڈ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُترجاتی ہیں، کاروکاری لیکن ہمارے ہاں کی مشہور۔
دوسرا میڈیا ہے، یہ امیج بناتا ہے۔ آج سے 25 سال پہلے ہر جگہ پر بدمعاش اور غنڈے کی شکل سلطان راہی جیسی ہوتی تھی۔ تلاشی ایسے شخص کی لی جاتی، جس کے کان میں مندری، ہاتھ میں گنڈاسا ہو۔ بڑی مونچھیں اور لمبے اُلجھے بال ہوں۔ گلے میں مفلر یا تہ بند پہنا ہو۔ اب کس کی تلاشی ہوتی ہے؟ جس کے ماتھے پر محراب، سر پہ ٹوپی، چہرے پر ڈاڑھی ہو۔ جو شلوار قمیص میں ملبوس ہو۔ یہ تصویرکس نے بنائی؟ میڈیا نے۔ میڈیا بنیادی طورپر اس لیے کھلا چھوڑا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کا یہی امیج تراشا جاتا ہے، وہ یہ تصویر دکھاتا ہے کہ یہی دہشت گرد ہے۔ عالمی میڈیا ہمارے ساتھ یہی کرتا ہے۔

حالانکہ بات یوں نہیں، میں آپ کے ساتھ کچھ اعدادوشمار شیئر کروں۔ 2017ء میں اب تک سب سے زیادہ دہشت گردی کے حملے انڈیا میں ہوئے۔ میں نے اس پر پورا تفصیلی پروگرام کیا۔ لیکن دہشت گردی کے حوالے سے مشہور ملک پاکستان ہے۔ لندن میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران میں تین ہزار سے زیادہ عورتیں تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ شرمین عبید مگر ہمارے ہاں پیدا ہوتی ہیں۔ لندن، برطانیہ کا دارالحکومت ہے ، چہرہ مگر کس کا داغ دار؟ دو منٹ سے بھی کم وقت میں امریکا کے اندر ایک عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ پچھلے سال رپورٹ آئی، امریکی فوج میں جنسی زیادتی کے ساڑھے چھ ہزار کیس فائل ہوئے۔ بڑی تعداد ایسی خواتین کی، جو ذکر تک نہیں کرپاتیں۔ تقریباً تین ہزار عورتیں ہر سال امریکا میں اپنے سابق بوائے فرینڈ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُترجاتی ہیں، کاروکاری لیکن ہمارے ہاں کی مشہور۔ کتنے ہی واقعات ہیں جو ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے ہمیں خبروں کی صورت ملتے ہیں۔ مگر ہمارا ہی دامن داغدار۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میڈیا ایک تصویر بناتا ہے اور پاکستان میں اس کے لیے خصوصی طور پر کوششیں ہوئیں۔ پاکستان کا خاص طور پر اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہاں فنڈنگ کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ میں سیکرٹری انفارمیشن رہا ہوں۔ پورے ملک کے اشتہارات کا بجٹ 25 ارب سے زائد نہیں۔ اس سے بمشکل دو ٹی وی چینل چل سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس وقت 80 چینل چل رہے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہاں سے ان کے لیے پیسہ آرہا ہے؟ کبھی کسی نے پوچھا کہ میری تنخواہ کہاں سے آتی ہے؟ کسی کی 55 لاکھ، کسی کی تیس یا بیس ،اورکچھ کو پندرہ لاکھ ماہانہ مل رہے ہیں، یہ کہاں سے آتے ہیں؟ یہ سوال کوئی نہیں کرے گا۔ اس لیے جو کہا جاتا ہے، وہ کرنا پڑتا ہے۔

سوال: اس آزادی نے مگر آپ کو بھی تو مواقع فراہم کیے۔ آپ کس قدر کھل کر رائے کا اظہار کرتے ہیں، میڈیا کی آزادی نہ ہوتی تو آپ کیا کرتے؟
اوریا مقبول جان: میں ایک گزارش کروں۔ میری کیا حیثیت، مولانا مودودیؒ کو ساری دنیا جانتی ہے۔ تنظیمی لحاظ سے دیکھا جائے تو کسی نے اتنی بڑی جماعت قائم نہیں کی۔ کس ٹی وی چینل پر آکر انہوں نے اپنے آپ کو منوایا؟ کیا کسی ریڈیو سے انہیں یہ مقام ملا؟ میں تحرک کی بات کررہا ہوں۔ یہ لوگ میڈیا کے نہیں تھے، احرار والوں کے پاس کون سا میڈیا تھا۔ ہمارے ہاں جب سے میڈیا آیا ہے، بڑی شخصیتیں بننا بند ہوگئی ہیں۔ میڈیا کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث بڑی کمال کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کی آمد سے پہلے کے کچھ سال دھوکا اور فریب کے ہوں گے۔ فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر طرف دھوکا اور فریب ہوگا۔ سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا بناکر پیش کیا جائے گا۔ خائن کو امانت دار اور امین کو خائن قرار دیا جائے گا۔ اور ’’روبیضہ‘‘ خوب بولے گا۔ عرض کیا: ’’یارسول اللہ! روبیضہ کون؟ فرمایا: گھٹیا لوگ جو اہم ترین معاملات پر گفتگو کریں گے۔

آپ آٹھ سے بارہ بجے کا وقت دیکھ لیں، آپ کو پتا چل جائے گا۔ مجھ سمیت ان میں سے کوئی ایک آدمی بتادیں جس نے معاشرے پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کیے ہوں؟ مستنصر حسین تارڑ ہمارے دوست ہیں۔ طویل عرصہ پاکستان ٹیلی ویژن سے شو کرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں مجھے ٹی وی کی نسبت سے آج کوئی پہچانتا نہیں، آج مگر ایسے لوگ مل جاتے ہیں جنہوں نے سترکی دہائی میں میری لکھی ہوئی کتاب ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ پڑھی اور اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ الفاظ کی اپنی معنویت ہوتی ہے۔ انقلاب کتاب لے کر آتی ہے، یہ آج کا میڈیا لے کر نہیں آتا۔ وہ جو اقبال نے کہا تھا، وہ اسی میڈیا پر منطبق ہوتا ہے:
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
یہ بنیادی طور پر ’’ساحری‘‘ ہے۔ چار لوگوں کی لڑائی دیکھ کر آپ سکون سے سوجاتے ہیں۔ اسے ’’علاج بالمثل‘‘ کہتے ہیں۔ آپ کے جذبات کا خون ہوتا ہے۔ کہتے ہیں جی! میرا کتھارسس ہوگیا، شیخ رشید نے کہہ دیا جو میرے دل میں تھا۔ انقلاب کا راستہ اسی طرح کھوٹا ہوتا ہے۔
سوال: آپ نے آخری زمانے اور قیامت کی آمد کا ذکر کیا، اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کو قیامت کی بڑی جلدی ہے۔
اوریا مقبول جان: پہلی بات یہ ہے کہ یہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ انہیں قیامت کی جلدی ہی ہوتی تھی۔ بخاری شریف کی حدیث ہے۔ سہل بن سعدؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو دیکھا، آپ اپنی بیچ کی اُنگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرمارہے تھے: میں ایک ایسے وقت میں نبی بناکر بھیجا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ایسے ہیں جیسے یہ دو اُنگلیاں۔‘‘
مجھے جلدی کیوں نہیں ہوگی؟ جب رسول اکرمﷺ، دجال کا ذکر کرتے تو صحابہ کرامؓ خوف سے کانپ جاتے کہ یہیں کہیں سے نکل نہ آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی یہ تھی کہ جہاں آپ کو دجال سے متعلقہ کوئی اطلاع ملتی، آپ وہاں پہنچ جاتے۔ ابن صیاد والی حدیث ہے۔ تمیم داری کی مشہور حدیث ہے ۔ان کا کون انکار کرسکتا ہے۔ یہ محض میرا مسئلہ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے میں نے قرآن کی ایک دو آیات اور باقی احادیث کے حوالے دئیے ہیں۔ اگر کسی کو اس کا فہم نہیں، تو میں نے کب کہا ہے کہ میری بات حتمی ہے، آپ اختلاف کرسکتے ہیں۔ میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے آگے آخری زمانہ ہے۔ رسول اکرمﷺ کی احادیث ہیں جن میں موجودہ دور کی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ اگر کسی کو یہ نظر نہیں آتیں تو اس میں قصور کس کا؟ پھر انہیں بھی کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جسے موت آگئی، اس کی قیامت قائم ہو گئی ۔ موت کے وقت کا کون تعین کرسکتا ہے؟ فکرِ آخرت کے لیے تو بے شمار احادیث موجود ہیں۔

سوال: آپ کی ریٹائرمنٹ ہوگئی، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کوئی بڑا کام کریں گے، لیکن لگ یوں رہا ہے جیسے ہر ریٹائر شخص کی طرح آپ بھی اب اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنے لگے ہیں؟

اوریا مقبول جان: میں نے پہلے ہی ’’العلم ٹرسٹ‘‘ بنالیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اُمت کی تاریخ میں قریب کے دو تین سو سال ایسے گزرے ہیں، جہاں نعرے بازی تو خوب ہوئی، مگر چند کام نہ ہوسکے۔ ان میں اول، آپ نے پوری دنیا کے نظام ہائے تعلیم کو کہا غلط ہیں، مغرب کے نظام کو فرسودہ کہہ کر مسترد کردیا۔ لوگ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ کا نظام کہاں ہے؟ المیہ تو دیکھیں کہ ہمارے ہاں آج جو دینی سسٹم کے تحت کام کرنے والے اسکول ہیں، ان سب میں بھی وہی مغربی نصاب پڑھایا جاتا ہے، بس ساتھ میں ایک قرآن مجید کے مطالعہ کا اضافہ کردیا جاتاہے۔ قطعاً یہ اسکولز وہ مقصد حاصل نہیں کرپاتے جس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر بیوروکریسی، کہا جاتا ہے ہماری اپنی بیوروکریسی ہونی چاہیے۔ ان کی تربیت کیسی ہونی چاہئے ،اسے کس طرح کام کرنا چاہئے۔ انتخاب کا طریق کار کیا ہو؟ تربیت کا انتظام کیسا ہو؟ اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ تیسرے نمبر پر ہے معاشیات، ہم سود کا کاروبار کرتے ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تیئس گھنٹے کی بحث ہے، عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ ہم نے سود کو حرام قرار دیا۔ اب متبادل کیا ہے؟ اسی طرح 480 کے قریب قوانین ہیں جنہیں آپ نے اب تک اسلامی سانچے میں نہیں ڈھالا۔ کل قوتِ نافذہ مل جاتی ہے تو کیا کریں گے، کیسے کریں گے؟ آپ کے پاس تو اسکول کا بنیادی نصاب نہیں، پھر اتنا بڑا کام کیسے کریں گے؟
ان مقاصد کے لیے میں نے 1972ء میں ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ ہمارے کچھ رضاکاروں نے اس پر خاصا کام بھی کیا۔ جتنا ہوسکا، اتنا شاندار کہ آپ حیران رہ جائیں، لیکن رضاکار کچھ عرصے بعد تھک جاتے ہیں۔ چنانچہ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ رضاکاروں کا نہیں، ٹیکنالوجسٹ کاکام ہے۔ نصاب مرتب کرنے والے افراد چاہئیں۔ پندرہ سولہ ماہرین تعلیم کی ضرورت ہے جو نصاب ڈیزائن کریں۔ مثلاً: مجھے کارٹون بنانے والے کی ضرورت ہے، اب کارٹونسٹ ایسا ہو جسے بنیادی آئیڈیا کا علم بھی ہو۔ یہ نہ ہو کہ کوٹ پینٹ پہنے شخص کی تصویر بنا دے یا اسکرٹ پہنے لڑکی کو پڑھاتے دکھادے۔ اس سے میرا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ پورے نظام کو بدلنا ہے۔

ہمارے اس ادارے کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ اس کے لیے ہم عدالت بھی گئے۔ دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک قوم ایسی نہیں جس نے دوسرے کی زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کی ہو۔ میں نے دارالترجمہ کا آئیڈیا پیش کیا۔ جتنی ترقی مسلمانوں کے دور میں ہوئی یا یورپ نے کی، ترجمے سے ہوئی۔ آپ اندازہ کریں ہارون الرشید کے زمانے میں تیس ہزار دینار ایک مترجم کی تنخواہ تھی۔ پوری دنیا کے علوم وفنون کا ترجمہ کیا تو سات صدیاں کھڑے ہونے کی طاقت پیدا ہوئی۔ دنیا میں اس وقت تین بے وقوف ملک ہیں جنہوں نے غیر کی زبان میں تعلیم شروع کی اور وہ تینوں اب واپسی کی طرف گامزن ہیں۔ سنگارپور، انڈیا اور سری لنکا۔ تینوں کے ماہرین تعلیم چلا رہے ہیں کہ ہم تباہی کی طرف گئے۔ میں آج کل اسی پر غور کررہا ہوں کہ تیس پینتیس افراد پر مشتمل تھنک ٹینک بنائوں۔ یہاں خدمات انجام دینے والوں کو معاوضہ دینا پڑے، مگر مانگنا بھی نہ پڑے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سطح پر کوئی ایسا تھنک ٹینک نہیں جو یہ کام کررہا ہو۔ جو کررہے ہیں، وہ donation کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ اسی کے مطابق انہیں اپنے پروجیکٹ ڈیزائن کرنے پڑتے ہیں۔
سوال: ساری زندگی سرکاری ملازمت کی، اعتراض ہوتا ہے کہ مراعات لینے کے باوجود نظام کے باغی رہے، اسے کچھ لوگ دوغلے پن کا نام بھی دیتے ہیں، سرکار کا نوکر ہوتے ہوئے اس کے خلاف بولنا اور لکھنا کبھی عجیب نہیں لگا؟

اوریا مقبول جان: پہلے تو ایک وضاحت کروں۔ آدمی ریاست کا ملازم ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ میں نے ریاست کی ملازمت کی ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سے تنخواہ لیتا رہا۔ جب سیکرٹری انفارمیشن لگا تو کہا گیا ’’آپ حکومت کے ترجمان ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں ریاست کا ترجمان ہوں اور میرا بنیادی مقصد عوام تک صحیح اطلاعات پہنچانا ہے۔‘‘
لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، میں ان سے عرض کروں۔ دنیا میں کون سا ایسا بندوبست ہے جو کسی حکومت کے ماتحت نہ ہو؟ آپ کاروبار کرتے ہیں، کون govern کرتا ہے۔ تجارت کے قوانین، تجارتی پالیسیاں، انکم ٹیکس، یہ سارے کسی بندوبست کے تحت ہی آتے ہیں۔ جو لوگ یہ بات کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں وہ یہ بغاوت کردیں کہ میں انکم ٹیکس نہیں دیتا، کسٹم سے انکار کردیں۔ you are governed by the government laws۔ آپ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بولتے ہیں، ’بغاوت‘ کرتے ہیں، تو ایک سرکاری ملازم کو کیوں پابند کرتے ہیں کہ ’بغاوت‘ نہ کرے، نہ بولے۔ یہ جو سڑک بنی ہے، اسٹریٹ لائٹس لگی ہیں، پانی، گیس اور بجلی ہے، کیا یہ حکومتی مراعات نہیں؟
آپ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بولتے ہیں، ’بغاوت‘ کرتے ہیں، تو ایک سرکاری ملازم کو کیوں پابند کرتے ہیں کہ ’بغاوت‘ نہ کرے، نہ بولے۔ یہ جو سڑک بنی ہے، اسٹریٹ لائٹس لگی ہیں، پانی، گیس اور بجلی ہے، کیا یہ حکومتی مراعات نہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے مجھے جس پر داد ملنی چاہیے، اسے میرے لیے طعنہ بنادیا گیا۔ میں نے اس نظام کے اندر رہ کر اس سے بغاوت کی، اس کے خلاف کھڑا ہوا، اس پر تو خراجِ تحسین بنتا ہے۔ جہاں تک ’’بنیادی مراعات‘‘ کی بات ہے، وہ میں عرض کرچکا ہوں کہ کبھی وصول نہیں کیں۔ 1988ء کا سال تھا، اکبر بگٹی وزیراعلیٰ تھے، مجھ سے کہا آپ کو ایک ہزار گز کا پلاٹ دے رہے ہیں، میں نے انکار کردیا۔ پوچھا: کیوں نہیں لیتے؟ میں نے کہا: میرے نظرئیے کے مطابق پاکستانی ریاست کی ساری زمین عوام کی امانت ہے۔ اگر آپ اسے پورے پاکستان میں تقسیم کردیں، اس کے نتیجے میں مجھے دس مرلے کا پلاٹ ملتا ہے، تب میں ضرور قبول کروں گا۔ لیکن اگر صرف اس بنیاد پر میں پلاٹ وصول کروں کہ سول سروس میں ہوں، فوج کے اندر ملازمت کررہا ہوں، ریلوے یا پی آئی اے میں خدمات انجام دے رہا ہوں، یا اس لیے کہ میں صحافی ہوں تو اسے درست نہیں سمجھتا۔ میں صحافی کالونی راولپنڈی اور لاہور کا ایم ڈی رہا۔ ہر سیکرٹری انفارمیشن کے دو پلاٹ ہیں، سوائے میرے۔تین تین لاکھ کے پلاٹ بعد میں تیس تیس لاکھ کے فروخت ہوئے۔ میں نے ایک پلاٹ وصول نہیں کیا۔ جنہیں مراعات کہا جاتا ہے، میں نے حق کے باوجود انہیں وصول نہیں کیا۔
بنیادی بات یہ ہے کہ مخالف لابی کو آج تک دلیل سے گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا۔ کچھ فقرے ہیں جو گھڑرکھے ہیں، انہیں ساری زندگی طعنے بناکر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ بس مقام اور نام بدل جاتا ہے۔ مثلاً: اس لابی کا ایک مشہور جملہ ہے: ’’جب بغداد پر حملہ ہوا، تو مسلمان اس پر بحث کررہے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام؟‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے جب پاکستان پر حملہ ہوا تو فیض اور جوش اس پر لڑرہے تھے کہ طوطا ’ط‘ سے لکھا جائے یا ’ت‘ سے۔‘‘ اس جملے کو بھی طعنہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ مراعات لے کر حکومتی اقدامات کی مذمت کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اُٹھاکر دیکھ لیں، جتنے انقلابی تھے، کیا وہ اس ریاست سے باہر نکل گئے تھے؟ کیا وہ اس ریاست کا پانی نہیں پیتے تھے؟ وہاں امن وامان سے استفادہ نہیں کرتے رہے؟ یہ ساری سہولیات لیتے رہے، مگر اس کے باوجود حق بات نہیں چھوڑی، ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہے، میں نے بھی یہی کیا۔
سوال: مذہبی طبقہ معترض ہے کہ آپ ایک طرف خلافت کی بات کرتے ہیں، دوسری جانب عمران خان کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اوریا مقبول جان: میں نے بحیثیتِ پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی کبھی حمایت کی ہو تب میں مجرم۔ عمران خان کے ذاتی کردار کی کبھی حمایت کرتا ہوں۔ ان کے کنٹری بیوشن کا ذکر کردیتا ہوں، مگر کبھی مخالفت بھی کرجاتا ہوں۔ البتہ مجھے وہ مذہبی طبقہ سخت برا لگتا ہے جو دین کو بیچ دیتا ہے۔ میں بنیادی طور پر مذہبی طبقے کی جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ کو ہی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ خصوصاً پاکستان کی جمہوریت، جو ظاہری لبادہ ہے دین کا، مگر اندر پورے کا پورا کفر ہے۔ میں اسے غلط سمجھتا ہوں اور مذہبی طبقے کو یہ معلوم ہے۔ میں سمجھتا ہوں جتنے مذہبی طبقات سیاست کے اندر آئے ہیں، یہ دین کی نیک نامی کے بجائے اس کی بدنامی کا سبب بنے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کا یہ راستہ ان لوگوں کے لیے ہے جو نالیاں بناسکیں، تھانوں سے لوگوں کو چھڑواسکیں۔ اگرچہ جمہوریت کو دیکھا جائے تو اس کا لب لباب یہی ہے کہ اللہ کا دین اس وقت تک نظام نہیں ہے جب تک چار سو جاہل ارکانِ پارلیمنٹ اس پر مہرِ تصدیق ثبت نہ کردیں۔ میں آج بھی اس پارلیمنٹ کے ایسے پچاس قانون نکال کر دکھاسکتا ہوں جو واضح طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ یہ مذہبی طبقہ وہاں بیٹھا ہے، اس کی عزت وتکریم ہے نہ ہی یہ دستورسازی کے اندر کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔ حقوقِ نسواں بل ان کی موجودگی میں پاس ہوجاتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ آپ کو صوبے کی حکومت ملتی ہے، پانچ سال تک حسبہ بل پاس نہیں کرپاتے۔
سوال: سیاست کی ہی بات شروع ہوئی تو یہ بتائیں پاکستانی سیاست میں کسی سے متاثر ہیں؟

اوریا مقبول جان: موجودہ دور میں کسی کا نہیں کہہ سکتا، البتہ اگر ذکر کرنا ہی ہو تو جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کا نام لوں گا۔ وہ میری پسندیدہ شخصیت رہیں۔ سیاست میں ان کے بعد کبھی کسی پر نظر ٹکی نہیں۔ کسی کو شرافت کی علامت دیکھا ہے تو وہ مولانا مودودی ہیں۔ میں ان کی مشہورِ زمانہ عصر کی محفلوں میں جاتا رہا۔ انہیں قریب سے دیکھا۔

سوال: ہمارے ہاں ایک طبقہ پرائیویٹ زندگی میں مذہب کا دخل پسند نہیں کرتا، یہ بہت سی مثبت باتیں کرتا ہے۔ غریب اور پسے ہوئے طبقے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اس بنیاد پر اسے ہدفِ تنقید بنانا کیا انصاف کا تقاضا ہے؟
اوریا مقبول جان: دہریت ایسی چیز ہے جو ہمارے اندر سب سے پہلے سرایت کرگئی۔ دہریت کا راستہ تعیش سے شروع ہوتا ہے۔ آپ ایک شاندار قسم کی زندگی چاہتے ہیں جو حدودوقیود سے آزاد ہو۔ خاتون مل جائے، شراب اور ڈانس پر پابندی نہ ہو۔ کمیونزم آیا، اس میں یہ تمام خرافات موجود تھیں، کوئی روک ٹوک نہیں۔ ہمارے ہاں کئی شاعروں اور ادیبوں نے اسے دل وجان سے قبول کرلیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ لوگ بھی اس کے اسیر ہوگئے، جن کے پاس مال وزر کی کمی نہ تھی، مگرکہتے یہ رہے کہ ہائے مزدور مرگئے، اسے روٹی نہ ملی، اس کے جسم سے نکلنے والے پسینے نے ہمیں تڑپاکر رکھ دیا۔

روزہ میرا ایمان ہے غالب، لیکن
خس خانہ و برفاب کہاں سے لائوں
جس بندے کو تعیش کی زندگی ملی ہو۔ زندگی کے آخر تک انگریز سے وظیفہ ملتا رہا ہو، وہ پھر بھی غربت کا رونا روتا رہے۔ فیض احمد فیض صاحب کی زندگی تعیش سے بھرپور۔ ماڈل ٹائون کے جس گھر میں رہتے رہے، ساری زندگی بیوروکریسی میں گزار کر بھی ایسے گھر کا نہیں سوچ سکتے تھے۔ فراز کے پاس کیا کم پیسہ تھا۔ سجاد ظہیر لندن جاکر رکتے ہیں۔ آپ کو مراعات جتنی مل سکتی ہیں، ملتی رہیں۔ اس کے باوجود وہ نظام انہیں اپیل کررہا ہے، جو ان کے طرزِ زندگی کے خلاف ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں سب سے اچھی بات یہ لگتی تھی کہ کمیونزم یا الحاد کے اندر زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ کسی ضابطے اور قانون کی پابندی نہیں کرنی پڑتی۔ دو تین گرل فرینڈ زرکھ لیں۔ شام کی محفلیں سج گئیں، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟ برسبیل تذکرہ عرض کروں میٹرک کے بعد میرے اوپر بھی ایک دو سال الحاد کا دور گزرا۔ میں باقاعدہ کمیونسٹ تحریک میں شامل رہا۔ قاری حنیف ڈار صاحب کا ایک جملہ مجھے بہت ہی پسند آیا۔ فیس بک پر انہوں نے لکھا: ’’کسی ملحد کو مت مارو، ہوسکتا ہے بڑا ہوکر وہ اوریا مقبول جان بن جائے۔‘‘
اخلاقیات کے قوانین جہاں ٹوٹتے ہوں، وہاں انہیں ریلیف ملتا ہے۔ ہماری ساری شاعری اسی کے گرد گھومتی ہے۔ طائوس ورباب۔ جو شمشیر وسناں کی بات کرے، وہ کبھی موضوعِ بحث نظر نہیں آئے گا۔ اقبال کا ذکر نہیں کریں گے۔ اگر ان کی کمٹمنٹ کمیونزم کے ساتھ تھی اور اس میں سچے تھے تو سوویت یونین بکھرنے کے بعد یہ اپنا قبلہ نہ بدلتے۔ یہ سارے لوگ امریکا کو گالی دیتے تھے، لیکن کمیونزم کا سورج غروب ہوا، لینن کا مجسمہ گرا تو امریکی اور مغربی کیمپ میں پناہ لے لی۔ اگر واقعی یہ مظلوم کے خیرخواہ ہوتے تو سب سے بہترین نظام تو اسلام تھا۔ چلیں کچھ دیر کو مان لیتے ہیں کہ کمیونزم بہتر تھا، کیا اس کے بعد بھی انہیں اسلام میں کوئی خوبی نظر نہ آئی؟

دراصل ’’نظریات‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ لوگ نظریاتی نہیں۔ یہ معاشرے میں پرتعیش زندگی گزارنے کے آرزومند لوگ ہیں۔ قیودوحدود سے آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور جو نظام انہیں کھل کر آزادی دے، یہ اس میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت پورا مغربی نظام چند چیزوں کی چمک کا نام ہے۔ ان میں جنسی اختلاط ہے۔ کوئی بھی سیاحتی مقام ایسا نہیں، جس کے ساتھ ’’نائٹ کلب‘‘ نہ ہو۔ خاندان سے آزادی، ماں باپ کو ’’اولڈ ہوم‘‘ چھوڑنے کی سہولت میسرہے۔ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعد بھی تعلق۔ میں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا، وجہ ایک یہ بھی تھی کہ کچھ اقدار کو ملیامیٹ کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ پہلے سادہ عشق ہوتا، اب بیوی اپنے شوہر کے دوست کے ساتھ عشق کرنے لگ گئی۔ دوست کسی کی شادی شدہ بہن پر فدا ہوگیا۔ شادی شدہ عشق متعارف ہوئے۔ ان تمام چیزوں میں مذہب آڑے آتا ہے، سو کیسے مذہب کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟ ازم اور نظام کچھ نہیں، اکثریت کو بس تعیش چاہیے، وہ چاہے کسی بھی نظام میں ہو۔

سوال: مذہب کے نام پر قتل وغارت ہوتی ہے، اسلام کا چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔ کیا بطورِ اُمت ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کی ضرورت نہیں؟
اوریا مقبول جان: دو بنیادی چیزیں تھیں جو تین چار سو سال کے علم نے پوری دنیا کو پڑھائیں۔ پہلی: رنگ، نسل اور زبان سے قومیں بنتی ہیں، تاکہ پوری دنیا کو نیشن اسٹیٹ میں تقسیم کیا جائے۔ دوسری، مذہب کا آپ کی نجی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں: ’’من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون۔‘‘ جو ہم نے نازل کیا، اس پر ایمان نہ لانے والے ہی کفر کررہے ہیں۔‘‘
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مذہب لوگوں کو آپس میں لڑواتا ہے، خونریزی کرواتا ہے۔ 1905ء کے اردگرد پوری دنیا سے مذہب نکل گیا، ریاستوں نے انہیں اپنے معاملات سے باہر پھینک دیا۔ اس کے بعد دو جنگیں؛ جنگِ عظیم اول ودوم لڑی گئیں۔ پندرہ کروڑ انسان مارے گئے۔ رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر ایسی قتل وغارت کہ انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ معلوم تاریخ کے قتل عام کو اکٹھا کیا جائے تو ان دو جنگوں میں مارے جانے والے انسانوں سے زیادہ نہ ہو۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ 40 لاکھ لوگ اس لیے قحط سے مرگئے کہ چرچل نے بنگال کے لیے غلہ روک دیا تھا۔ یہ مرنے والے سارے مسلمان تھے۔ کیا اس کے باوجود کہا جاسکتا ہے کہ مذہب کے نام پر قتل وغارت ہوئی ہے۔ بنیادی بات وہی ہے جو میں نے پہلے عرض کردی ہے کہ کسی کے بارے میں تاثر بنادو۔ سو ہم سے متعلق بنادیا گیا۔
سوال: ہمارے ہاں مذہبی طبقہ سیاسی میدان میں کمزور دکھائی دیتا ہے، حالانکہ معاشرے میں مذہب کا کافی اثرورسوخ ہے۔ ناکامی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

اوریا مقبول جان: تنظیم اسلامی کام کررہی ہے۔ معاشرے میں اس کی بہت پذیرائی نہیں، لیکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے جیسے تزکیہ والے لوگ پیدا کیے، جس طرح قرآن کا علم ان کے پاس ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ قرآن پر انہیں عبور حاصل ہے۔ ان کے نظریات واضح ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ یہ نظامِ کفر ہے، ہم اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ کمپرومائز ہی کوئی نہیں۔ رسول اکرمﷺ کو متفقہ طور پر مکہ کا سردار بنادیا گیا تھا۔ آج ساری جماعتیں مل کر سراج الحق کو وزیراعظم بنالیں تو یہ رسول اللہ کی سنت کے مخالف ہوگا یا حق میں! آپ کو کیا ٹھیکہ ملا ہے اللہ کے دین کو نافذ کرنے کا؟
سوال: ڈاکٹر اسرار صاحبؒ انتقال سے پہلے اپنے بیٹے کو جماعت کی ذمہ داری سونپ گئے، کیا یہ ملوکیت کا وہی تصور نہیں جسے اسلام نے کبھی پسند نہیں کیا؟

اوریا مقبول جان: میں اس سے اتفاق کرتاہوں، ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں ہی خود کو تاحیات امیر منتخب کرالیا تھا، لیکن میں عرض کروں ڈاکٹر اسرار صاحب پر یہ اعتراض کہیں اور سے نہیں آتا، وہ لوگ زیادہ کرتے ہیں جو ساری زندگی نسل کی بنیاد پر امامت کی گفتگو کرتے رہے۔ جو سادات کے ظالم ترین اور فاسق ترین آدمی کو بھی برتر سمجھتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ یہ بات نہیں کرتے۔ رسول اکرمﷺ تو دوہرا اضافہ کردیتے۔ اس کے باوجود مجھے یہ بتائیے کہ ڈاکٹر اسرار کا گھر باقی تمام مذہبی علماء اور جماعتوں کے گھرانوں سے بہتر نہیں؟ تعلیم و تربیت کے لحاظ سے۔ کس مذہبی عالم نے اپنے بیٹے کو مغربی اسکول سے اُٹھاکر دینی تعلیم میں ڈالا؟ حالانکہ خود ڈاکٹر صاحب جدید تعلیم یافتہ تھے۔ اپنے سارے بچوں کو اپنے مشن پر لگادیا اور انہیں دینی تعلیم دی۔ کوئی ایسا نہیں کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے مشن سے ہٹا ہوا ہو۔ اگرچہ میں تنظیم اسلامی میں شامل نہیں، لیکن ہم مولانا مودودیؒ کو ہی دیکھ لیں، ان کے گھر میں بھی یہ نظر نہیں آتا۔ ہماری صدیوں کی روایات تھیں کہ مساجد کے مولوی صاحبان اپنے بچوں کو ساتھ رکھتے تھے، اب وہ بھی ختم ہوگئی ہیں۔ اگر اس ’’پیشے‘‘ میں پیسہ موجود ہے تو بیٹا آئے گا، ورنہ نہیں! سو، اس بنیاد پر ایک تنظیم کو مسترد کردینا بھی انصاف نہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے قرآن فہمی کے حوالے سے جو خدمات انجام دیں، وہ منفرد ہیں۔ 180 گھنٹے کی قرآن فہمی پر مشتمل ان کی کلاسز بڑا کارنامہ ہے۔ وہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے قرآن پڑھتے۔ مفسر جب تفسیر لکھتا ہے، اپنے علم کا سارا زور صرف کرتا ہے، نئے نئے نکتے تلاش لاتا ہے، جب آپ بیان کررہے ہوتے ہیں، لوگوں کو سمجھانے کے لیے کرتے ہیں۔ قرآن کی یہ زیادہ بڑی خدمت تھی جو ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ نے انجام دی۔

سوال: آپ خلافت کے داعی ہیں، ایسے خلفا کے ادوار سے متعلق پڑھا، عوام جس میں خوشحالی کے لیے ترستی رہی۔ آج کچھ جمہوری ممالک ہیں جہاں امن وامان اور سکون ہے۔ اسلام ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، اگر یہ جمہوری نظام کے ذریعے ہو تو کیا مضائقہ ہے؟
اوریا مقبول جان: میں خلافت اور خلیفہ کی بات اس لیے کرتا ہوں کہ ہر قوم کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں، جب تک آپ ان اصطلاحات کو استعمال نہیں کریں گے، اس Frame of mind میں نہیں آئیں گے۔ آپ جب کہتے ہیں میرے ملک کا وزیراعظم، تو آپ اس کا موازنہ چرچل اور نیرو کے ساتھ کریں گے۔ آپ جب صدر کہیں گے تو آئزن ہاور اور ڈیگال کے ساتھ کریں گے۔ جس دن آپ نے اپنے حکمران کو خلیفہ کہنا شروع کردیا، اس کا موازنہ لامحالہ ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیٰؓ سے ہونا شروع ہوجائے گا۔ فقرہ بدلنے سے بہت سی چیزیں بدل جائیں گی۔ دنیا میں کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کی اصطلاحات اس سے چھین لی جاتی ہیں۔ آپ کتنی آسانی سے کسی کو I love you کہہ جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کو کہنا پڑجائے میں تم سے عشق کرتا/ کرتی ہوں، ماتھے پر پسینہ آجائے گا۔
خلیفہ کا یہ لفظ میرے اللہ اور رسول نے ہمارے لیے چنا۔ خود اللہ نے فرمایا: ’’انی جاعل فی الارض خلیفہ‘‘ ’’لیستخلفنھم فی الارض‘‘ آپ خلیفہ منتخب کرلیں، امیر المومنین کہہ دیں کیا یہ لفظ کوئی برداشت کرے گا؟ طالبان اور ایران میں یہی فرق ہے۔ طالبان کی حکومت ختم کردی گئی۔ ایران میں آج بھی صدر اور وزیراعظم ہے۔ جب تک آپ ان کی اصطلاحات کو اپنے سیاسی نظام میں شامل رکھتے ہیں، انہیں کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ جب آپ اپنی اصطلاحات کی جانب پلٹتے ہیں، ان کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ کس ملک میں جمہوریت کے ذریعے اسلام نافذ ہوا؟ چلیں یہ کہہ دیتے ہیں کہ کس کس ملک میں جمہوریت کے ذریعے برسراقتدار آسکے ہیں؟ آخری مثال مصر کی ہے۔ آپ کو چلنے دیا گیا؟ زینب الغزالی جیسی خاتون اور حسن البناء جیسے لیڈر کو نہ چھوڑا۔ سید قطب کو پھانسی چڑھادیا۔ چار لاکھ بندے شہید کردئیے۔ لاکھوں جیلوں میں پڑے رہے۔ اس سب کے باوجود جب الیکشن میں اُترے اور 65 فیصد ووٹ لیا۔ منہ پر طمانچہ ماردیا کہ خبردار! جو چلنے کی کوشش کی۔ اس کا مطلب یہ ہے اگر پھر بھی کوئی جمہوریت کا تجربہ کرتا ہے، تو جاہل نہیں کہوں گا، کم ازکم بے وقوف ضرور ہے۔
جس خلافت کا آپ نے ذکر کیا، ظاہر ہے اس کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے بھی ’’کاٹ کھانے والی ملوکیت‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی خوبیاں ہی اور ہیں۔ اگر اس میں کوئی جمہوریت ہے بھی تو وہ تابع۔اسلام بنیادی طور پر رائے دینے والے کو اہمیت دیتا ہے کہ رائے کون دے رہا ہے؟ جب رائے دینے والے صحیح ہوں گے، وہ پانچ کروڑ ہوں، پانچ لاکھ یا پانچ افراد۔ جس دن آپ نے ووٹر کی اہلیت کا تعین کرلیا کہ خائن نہ ہو، جھوٹا نہ ہو، جس پر کوئی کیس نہ ہو، دین کے بنیادی اصولوں پر پورا اُترتا ہو، اس دن میں آپ کی جمہوریت کا بھی قائل ہوجائوں گا۔ ویسے میں ایک چیلنج دیتا جائوں، آپ نے جمہوریت کی بات کی۔ دنیا میں کوئی ایک بھی ایسی حکومت نہیں جو واقعی جمہوریت کے نتیجے میں برسراقتدار آئی ہو۔
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا خود نگر و خود شناس
کوئی ایسا نظام بنے کہ لوگ دھوکے میں رہیں۔ آپ اندازہ کریں پارٹی سسٹم بنادیا۔ آپ کہیں بھی ذکر کریں کہ غیرجماعتی انتخابات ہوں تو آپ کو آمریت کا نمایندہ قرار دیں گے۔ کیوں؟ پوری جماعت خریدی جاتی ہے۔ 6 اعشاریہ 8 بلین ڈالر بارک اوباما کے پاس نہ ہوتے تو امریکی انتخابات میں اس کے اُترنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ 4 بلین یورو سرکوزی کا بل تھا۔ 3 اعشاریہ 8 بلین گورڈن برائون نے خرچ کیا۔ یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ کارپوریٹ کلچر سے۔ وہ انہیں خریدتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے: will of the people speaks in the parliament، یہ بکواس ہے۔ پندرہ ٹریلین ڈالر امریکا کا شرح نمو، سولہ ٹریلین امریکا کا قرضہ، کل اکتیس ٹریلین۔ بتیس ٹریلین ڈالر امریکا کے سرمایہ داروں نے کیون آئی لینڈ میں ٹیکس چوری کرکے رکھے ہیں۔ کوئی ایک شخص پارلیمنٹ میں اس کے خلاف آواز نہیں اُٹھاسکتا۔ 1923ء میں ایک شخص نے کہا تھا یہ پیسہ ہمارا ہے، اسے واپس لانا چاہیے۔ اسے کہا گیا: ’’تم ہمارے کتے ہو، ہماری طرف سے بھونکا کرو۔‘‘
کہاں جنگ لڑنی ہے؟ کس کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے ہیں؟ فیصلہ یہی لوگ کرتے ہیں۔ جمہوری نظام سے زیادہ کوئی جابرانہ اور ظالمانہ نظام نہیں۔ یہ اکثریت کی آمریت ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگلے پچاس سالوں میں بھی اس جمہوری نظام کے تحت ہندوستان میں کوئی مسلمان وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ یہ اقلیت کا دشمن نظام ہے۔ بارہ سال سے وہاں ایک مذہبی کٹھ ملا اقتدار پر قابض۔ آخر یہ انصاف ہے کہ آپ 51 فیصد ہندوئوں کے ووٹ پر 49 فیصد اقلیتوں کا استحصال کریں۔

سوال: آپ مجسٹریٹ بھی رہے، پاکستان کے عدالتی نظام کو کیسے پایا اور اس میں کیا کمی بیشیاں ہیں جنہیں درست کیا جاسکتا ہے؟
اوریا مقبول جان: پاکستان کا عدالتی سسٹم اسلام کے عدالتی نظام سے مختلف ہے۔ اسلام کے قریب قریب فرنچ نظام ہے۔ Anglo-Saxon law اسلام سے جد ا۔ یہ adversarial ہے۔ مثلاً: کوئی شخص آتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ فلاں شخص چور ہے۔ اسے ثابت کرنا ہے اس کا دعویٰ درست ہے۔ جج جانتا ہے اس شخص کی بات درست ہے، مگر فیصلہ نہیں کرسکتا۔ صفحہ مثل پر جو چیز آئے گی، اسی پر فیصلہ کرنا ہے۔ فرنچ قانون اسلامی اصولوں کے قریب ہے۔ اس کے مطابق قاضی تحقیق بھی کرسکتا ہے۔ اسے inquisitorial سسٹم کہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جب اپنا کیس لے کر گیا تو یہی گزارش کی کہ آپ اسے inquisitorial بنائیں۔ سارا ریکارڈ حکومت کے پاس ہے، تحقیق کیسے ہوگی؟ چنانچہ گزارش سن لی گئی۔ جب تک آپ اس نظام کو inquisitorial نہیں بنائیں گے، تب تک مسائل رہیں گے۔

آپ جب کہتے ہیں میرے ملک کا وزیراعظم، تو آپ اس کا موازنہ چرچل اور نیرو کے ساتھ کریں گے۔ آپ جب صدر کہیں گے تو آئزن ہاور اور ڈیگال کے ساتھ کریں گے۔ جس دن آپ نے اپنے حکمران کو خلیفہ کہنا شروع کردیا، اس کا موازنہ لامحالہ ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیٰؓ سے ہونا شروع ہوجائے گا۔
دوسرا، اسلام نے کچھ اصول نافذ کیے ہیں۔ 1253ء میں التمش کے دور میں اسلام کا حنفی قانون قاضی منہاج سراج کے تحت نافذ کیا گیا۔ تب سے لے کر 1857ء تک اسی قانون کا نفاذ رہا۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ اکثریت میں آئو تو قانون نافذ کرو۔ جو گورننس کے قوانین ہیں، ان کا مذہب کے ساتھ تعلق نہیں۔ چور شیعہ ہے نہ سنی، وہابی نہ دیوبندی اور بریلوی، عیسائی ہے نہ یہودی۔ اسی طرح ڈکیت اور زانی کا بھی کوئی مذہب نہیں۔ اللہ کہتا ہے، یہ قانون نافذ کرلو، تم امن میں آجائوگے۔ ’’ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب۔‘‘ تم قصاص نافذ کردو، تمہاری لیے اسی میں زندگی ہے۔‘‘ ان اصولوں کی بنیاد پر فیصلے ہوتے تھے تو امن تھا۔ 1875ء کے لارڈمیکالے کے نوٹس اُٹھاکر پڑھیں، وہ کہتا ہے میں برصغیر کے کونے کونے میں گھوما، مجھے کوئی فقیر نظر آیا نہ چور۔ اصول متعین تھے۔ بلاتخصیص مذہب یہ قوانین نافذ کردئیے تھے،، امن ہوگیا تھا۔

بنیادی طور پر ریاست کے دو مقاصد ہیں: ایک امن وامان، دوسرا انصاف۔ ’’واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان‘‘ انصاف کے نفاذ کے لیے مذہب کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ آپ اسلام کے ’’سول لاز‘‘ نافذ کردیں، تمام لوگوں کو جائیداد میں حصہ ملے گا، آپ کے ہاں تنازعات ختم ہوجائیں گے۔ آپ خلفاء کے ’’ویلفیئر لاز‘‘ کا نفاذ کردیں، کسی کو کلمہ پڑھانے کی ضرورت نہیں۔
سوال: سود سے متعلق آپ کی رائے کافی سخت ہے، آپ نے اس سلسلے میں کام بھی کیا، اسلامی بینکاری سے متعلق کیا کہتے ہیں؟

اوریا مقبول جان: اس پر طویل گفتگو ہوسکتی ہے۔ میں اسے دوسرے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اس وقت پوری کی پوری مغربی جمہوریت اور کارپوریٹ کلچر کی عمارت اس پر کھڑی ہے۔ گھنٹوں بحث ہوسکتی ہے، مختصر یہ کہہ دوں کہ آپ نے بینک میں رقم رکھی ہے، آپ کی مجبوری ہوسکتی ہے، لیکن اسلامی بینکاری کے نام پر کم ازکم حیلے نہ کریں۔ اسلامی بینکاری بکری کے نام پر سور کھانے کے مترادف ہے۔ میری مولانا تقی عثمانی صاحب کے ساتھ اس پر گفتگو ہوئی۔ وہ کہتے ہیں آپ عزیمت کی بات کرتے ہیں، ہم لوگوں کے لیے رُخصت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مجھے ان کے اخلاص پر شک نہیں، لیکن مولانا سلیم اللہ خان آخری وقت تک یہی کہتے رہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسلامی بینکاری حیلہ سازی ہے۔ بنی اسرائیل یہی کام کرتے رہے۔
سوال: زندگی کا بیشتر حصہ بلوچستان میں گزارا، وہاں ملازمت کی، آج پھر وہاں حالات گھمبیر ہیں، اسے کیسے دیکھتے ہیں اور حل کیا ہے؟
اوریا مقبول جان: بلوچ سرداروں کو ریاست نے خود کھڑا کیا۔ وہ ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطہ سردار کا ہوتا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ گھمبیر بھی ہے، مگر آسان بھی بہت۔ آسان ایسا کہ ان کے معاملات کو نہ چھیڑا جائے جیسے انگریز نے کیا۔ اس نے وہاں کی قبائلی اقدار نہ چھیڑیں۔ سنڈیمن کی پالیسی یہی تھی۔ قانون کے بارے میں کہا جاتا ہے: ’’قانون لوگوں کی روایات اور اقدار سے پیدا ہوتا ہے، باہر سے نہیں آتا۔‘‘ اس نے انہیں ان کی اقدار اور روایات کے مطابق چلنے دیا۔
بلوچستان کے مسئلے میں انڈیا سب سے آخر میں آتا ہے۔ خرابی کی بنیادی ذمہ داری پہلے دُبئی، قطر اور پھر ایران پر ہے۔ ان کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔
البتہ ایک مسئلہ ایسا تھا جس میں ہم اور گورے نے غلطی کی۔ گورے نے بھی بلوچستان کو صحیح نہ سمجھا، ہم بھی اسی کے نقشِ قدم پر چلے۔ دونوں نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً: گورے نے نواب دودا خان کو خیربخش مری کے والد کے مقابلے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ خیربخش مری لامحالہ سردار بن گیا۔ نور الدین مینگل کو کھڑا کیا۔ انہوں نے وہی غلطی کی۔ گورا سمجھ گیا تھا کہ یہ قبائلی لوگ اپنے سردار کو اسی خاندان سے مانتے ہیں، کسی اور کو نہیں۔ ہم نے اکبر بگٹی کے دور میں پھر وہی غلطی دہرائی۔ ان کے مقابلے میں اپنا وفادار لانے کی کوشش کی۔ جب بھی اپنا وفادار لانے کی کوشش کریں گے، نقصان اُٹھائیں گے۔ 2005ء کا کرائسز اسی وجہ سے ہوا۔ بلوچستان کے باقی بلوچ اکبر بگٹی کے ساتھ صلح نہیں چاہتے تھے، ورنہ وہ تو سوئی کے ایرپورٹ پر آگئے تھے۔ وہ جانے والے تھے، جہاز ہی کسی نے بھیجنے نہیں دیا۔ ظفر اللہ جمالی نے نہ ہی جام یوسف نے۔ وہ بے چارے وہاں بیٹھے رہے، قبائلی معاشرہ ہے، واپس قبیلے میں جا نہیںسکتے تھے، پہاڑوں پر چلے گئے۔ مسئلہ چٹکیوں میں حل ہوسکتا ہے اگر ہماری اسٹبلشمنٹ میں عقل وشعور ہو۔ اب مگر گھمبیر اس لیے ہوگیا ہے کہ عالمی قوتیں درمیان میں آگئی ہیں۔ دو تین طاقتیں اسے مزید خراب کررہی ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے میں انڈیا سب سے آخر میں آتا ہے۔ خرابی کی بنیادی ذمہ داری پہلے دُبئی، قطر اور پھر ایران پر ہے۔ ان کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔
سوال: آخری سوال، نثر اور شاعری میں کس نے زیادہ متاثر کیا؟

اوریا مقبول جان: زیادہ کے لفظ کا جواب تو نہیں دیا جاسکتا، البتہ نثر سے متعلق عرض کروں کہ ہر طرح کی پڑھی۔ تذکرہ غوثیہ میں سید غوث علی شاہ کی نثر اچھی لگی، انتظار حسین کی نثر اچھی لگتی ہے۔ مولانا مودودی کی نثر بہت خوبصورت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر کا ڈنکا بجا، مگر ان کے اسلوب کا زمانہ اب نہیں رہا۔ منٹو کبھی اچھا نہیں لگا، مجھے اس کے کرداروں سے نفرت ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے کردار تخلیق کرتا ہے جو معاشرے کے اندر وجود نہیں رکھتے۔ مثلاً: اس کے نزدیک ہر مولوی کے اندر ایک مجرم چھپا ہوتا ہے جبکہ ہر طوائف اندر سے بڑی نیک سیرت ہوتی ہے۔ انہیں کوئی بری طوائف ملتی ہے نہ ہی کبھی کسی اچھے مولوی سے سامنا ہوتا ہے۔ نثر کی ہی بات کروں تو غالب کے خطوط میں بہت کمال کی نثر ہے۔ شاعری میں اقبالؔ سے آگے سوچتا ہوں نہ پیچھے۔ دائیں بائیں بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ میں نے ایک بار تضمین لکھنے کی کوشش کی، مگر پھرکبھی اس دیوار کو عبور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کئی سو سال پہلے اقبالؔ پیدا ہوا، نہ اگلے سو سالوں میں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ رومانوی شاعری کی بات کی جائے تو یگانہ چنگیزی اچھا لگتا ہے۔ فراق خوب شاعر تھے۔ فیض احمد فیض اچھے شاعر تھے، مگر یار لوگوں نے انہیں بہت بڑا بنادیا۔

521 total views, 0 views today