News بین الاقومی تازہ ترین عالم اسلام

آیاصوفیہ معاملےمیں ترک حاکمیت میں مداخلت قبول نہیں: وزیرخارجہ

آیا صوفیہ کو سال 1462 میں مسجد کی حیثیت دی گئی تھی اور اسے مسجد کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے آیا صوفیہ کے حوالے سے فیصلے کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی کی حاکمیت کے حقوق میں مداخلت کی نوعیت کے تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

چاوش اولو نے ٹی آرٹی نیوز چینل پر ایجنڈے کے حوالے سے اپنے جائزے پیش کیے۔

آیا صوفیہ کو عبادت کے لیے کھولے جانے کے فیصلے کے ایک عدالتی فیصلہ ہونے کا ذکر کرنے والے وزیر نے بتایا کہ سن 1453 میں فتح استنبول کے یہ ترکوں کی حاکمیت میں آگیا تھا اور اسے مسجد کی حیثیت دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ آیا صوفیہ کو سال 1462 میں مسجد کی حیثیت دی گئی تھی اور اسے مسجد کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا۔ ہم ہر کس کے نظریے کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم ترکی کی حاکمیت میں مداخلت کرنے پر مبنی تبصروں اور بیانات کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
دوسری جانب آرمینیا کی جانب سے تووز سرحدی علاقے میں آذربائیجان کے مورچوں پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے کہا کہ’’فطری طور پر آذربائیجانی فوج نے اس کا جواب دیتے ہوئے اس حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ اس حرکت سے یہ حقیقیت سامنے آتی ہے کہ آرمینیا خاصکر کر مقبوضہ علاقوں سے توجہ کو ہٹانے کےلیے کاروائیاں کر رہا ہے، اس ملک نے ابتک کبھی بھی حل کی جانب پیش قدمی نہیں کی ۔

اس ملک کی یہ حرکت ناقابل قبول ہے ، اسے ہوش کے ناخن لینے چاہییں، آذربائیجان تنہا نہیں، ہم جمہوریہ ترکی اور ترک قوم کی حیثیت سے اپنے تمام تر امکانات اور وسائل کے ساتھ اس ملک کے شانہ بشانہ ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے بتایا کہ ترکی آذربائیجان کی ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ تعاون فراہم کرتا رہے گا، اس ملک نے مقبوضہ سرزمین اور قارا باغ کے معاملے میں جس حل کو بھی ترجیح دی ہم اس کا ساتھ دیں گے

156 total views, 0 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.